واشنگٹن (پاک ترک نیوز )امریکی فوج نے جنگی میدان میں ایک اہم تکنیکی پیش رفت کرتے ہوئے H-60M بلیک ہاک ہیلی کاپٹر سے جدید ایئر لانچڈ ایفیکٹ یعنی A-LE کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔یہ تجربہ پروجیکٹ کنورجنس کیپ اسٹون 6 کے دوران کیا گیا، جہاں بلیک ہاک ہیلی کاپٹر سے اینڈرل کی الٹیئس 700 لانچ کیا گیا۔امریکی فوج کے مطابق لانچ کیا گیا سسٹم خودکار طور پر ہدف تلاش کرنے، فارمیشن میں موجود دیگر پلیٹ فارمز کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرنے اور ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہا۔
روایتی طور پر بلیک ہاک کو فوجیوں اور سامان کی نقل و حمل، رسد اور دیگر معاون مشنز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ حملہ آور مشنز کے لیے اے ایچ 64 اپاچی جیسے اٹیک ہیلی کاپٹر نمایاں رہے ہیں۔اب یہ ہیلی کاپٹر خود خطرناک علاقے میں داخل ہوئے بغیر اپنے ساتھ موجود بغیر پائلٹ ڈرونز کو آگے بھیج کر نگرانی، ہدف کی نشاندہی، الیکٹرانک وارفیئر، مواصلاتی رابطے اور طویل فاصلے تک حملے جیسے کام انجام دے سکتا ہے۔
یعنی بلیک ہاک ایک طرح سے فضائی "مدر شپ” کا کردار ادا کرسکتا ہے، جو بیک وقت کئی ڈرونز کو لانچ اور کنٹرول کرے۔اینڈرل کا الٹیئس 700 ایک ماڈیولر ایئر لانچڈ ڈرون ہے، جس میں نگرانی، انٹیلی جنس، الیکٹرانک وارفیئر اور کمیونیکیشن سمیت مختلف نوعیت کے پے لوڈز نصب کیے جاسکتے ہیں۔اس کا مسلح ورژن الٹیئس 700M ایک لُوئٹرنگ میونیشن ہے، جسے گاڑیوں، بحری جہازوں اور بنیادی تنصیبات کے خلاف حملوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 700M میں 33 پاؤنڈ تک وارہیڈ نصب کیا جاسکتا ہے جبکہ اس کی رینج تقریباً 160 کلومیٹر بتائی جاتی ہے۔پروجیکٹ کنورجنس کیپ اسٹون 6 سے پہلے امریکی فوج نے مسلح الٹیئس 700M کو لانگ رینج پریسیژن میونیشن کے طور پر شناخت کیا تھا۔جاری کی گئی ویڈیو میں ایک لانچڈ ایفیکٹ کو بظاہر ایک بکتر بند زمینی گاڑی کو نشانہ بناتے ہوئے بھی دیکھا گیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تجربے میں مسلح ورژن استعمال کیا گیا۔
روایتی طور پر بلیک ہاک کو اپنے ہدف کے قریب جانا پڑ سکتا تھا، لیکن لانچڈ ایفیکٹس کے ذریعے ہیلی کاپٹر اپنے ڈرونز کو سیکڑوں کلومیٹر آگے بھیج سکتا ہے۔وہاں یہ ڈرون دشمن کے ٹھکانوں کی نگرانی کرسکتے ہیں، ہدف کی نشاندہی کرسکتے ہیں اور مسلح ورژن ضرورت پڑنے پر حملہ بھی کرسکتا ہے۔یوں عملہ بردار ہیلی کاپٹر دشمن کے فضائی دفاع اور دیگر خطرات سے نسبتاً دور رہتے ہوئے جنگی کارروائی میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔امریکی فوج مستقبل میں صرف ایک ڈرون لانچ کرنے کے بجائے بیک وقت متعدد A-LE سسٹمز چلانے کا تصور پیش کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا کا مریخ پر3ہیلی کاپٹر بھیجنے کا منصوبہ
اس صورت میں بلیک ہاک ایک ایسے فضائی کنٹرول مرکز میں تبدیل ہوسکتا ہے جو ایک ہی وقت میں مختلف ڈرونز کو نگرانی، الیکٹرانک جنگ، رابطوں اور حملے کے لیے استعمال کرے۔پروجیکٹ کنورجنس کے دوران بلیک ہاک سے متعدد لانچڈ ایفیکٹس کو لانچ اور کنٹرول کرنے کی صلاحیت بھی آزمائی گئی۔تجربے میں انفراریڈ سینسرز سے لیس نگرانی کرنے والے ڈرونز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے مہلک لانچڈ ایفیکٹ کو ایک ہی جنگی نیٹ ورک میں استعمال کیا گیا۔امریکی فوج کے مطابق بلیک ہاک سے A-LE کی کامیاب لانچنگ صرف ایک تجربہ نہیں بلکہ جنگی میدان کی ساخت تبدیل کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔
اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک نسبتاً روایتی یوٹیلیٹی ہیلی کاپٹر کو ایسا پلیٹ فارم بنایا جا رہا ہے جو دور بیٹھ کر کئی خودکار ڈرونز کو میدانِ جنگ میں تعینات، کنٹرول اور ضرورت پڑنے پر حملے کے لیے استعمال کرسکے۔اور دلچسپ بات یہ ہے کہ بغیر پائلٹ U-Hawk بلیک ہاک میں بھی A-LE سسٹم شامل کیا جا رہا ہے، جہاں لانچڈ ایفیکٹس کو ہیلی کاپٹر کے اندرونی حصے میں لے جایا جاسکے گا۔










