بیجنگ : (پاک ترک نیوز)بحیرۂ ہند کی سطح پرسکون دکھائی دیتی ہے، مگر اس کے نیچے طاقت کا ایک نیا طوفان پل رہا ہے۔بھارت، جو اپنی تجارت اور توانائی کے لیے سمندری راستوں پر انحصار کرتا ہے، اب اپنے سب سے بڑے حریف چین کی تیزی سے بڑھتی بحری طاقت کو تشویش سے دیکھ رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بیجنگ اپنی پہلے سے دنیا کی سب سے بڑی بحریہ میں مزید تقریباً 50 نئے جنگی جہاز شامل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اندازوں کے مطابق آنے والے برسوں میں چینی بحری بیڑے کی تعداد 400 سے تجاوز کر سکتی ہے، جبکہ بھارت ابھی 170 کے قریب جہازوں تک پہنچنے کی جدوجہد کر رہا ہے۔
چین کے جدید ڈسٹرائر اور فریگیٹ شنگھائی اور دالیان کے شپ یارڈز سے تیزی سے سمندر میں اتر رہے ہیں۔
اُدھر بھارت کے بحری اڈوں—کوچی، ممبئی اور وشاکھاپٹنم—میں رفتار بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ نئی آبدوزیں، دوسرا یا تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز، اور تیز رفتار مقامی تعمیر،سب کچھ ایک دوڑ کا حصہ بن چکا ہے۔
آبنائے ملاکا سے لے کر گوادر اور ہیمبنٹوٹا تک، سمندری نقشہ بدل رہا ہے۔ چین کی موجودگی بحیرۂ جنوبی چین سے نکل کر بحیرۂ ہند تک محسوس کی جا رہی ہے، جبکہ بھارت امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ مشترکہ مشقوں کے ذریعے توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ مقابلہ صرف جہازوں کی تعداد کا نہیں۔ یہ لاجسٹکس، سیٹلائٹس، آبدوزی سینسرز، میزائل رینج اور بندرگاہی رسائی کا کھیل ہے۔ بحیرۂ ہند، جو کبھی کھلا تجارتی راستہ سمجھا جاتا تھا، اب اثر و رسوخ کی بساط بنتا جا رہا ہے۔
سوال یہ ہے: کیا بھارت اس بڑھتے ہوئے خلا کو پُر کر پائے گا؟ یا خطے میں طاقت کا توازن خاموشی سے تبدیل ہو چکا ہے؟












