اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان کے لڑاکا طیارے جے ایف 17 تھنڈر کے حصول میں صومالیہ کی ممکنہ دلچسپی نے مشرقی افریقہ میں فضائی دفاعی صلاحیتوں کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ دفاعی تجزیے کے مطابق صومالیہ اپنی فضائیہ کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھا رہا ہے، تاہم لڑاکا طیاروں کی خریداری کے حتمی معاہدے کی دونوں ممالک کی جانب سے سرکاری تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
دفاعی رپورٹ کے مطابق صومالی صدر حسن شیخ محمود نے ستمبر میں پاکستانی فضائیہ کے اعلیٰ سطح کے وفد سے ملاقات کی، جس میں دفاعی صلاحیتوں، تربیت اور فوجی تعاون سے متعلق امور زیرِ بحث آئے۔ صومالی وزیر دفاع احمد معلم فقی نے بھی پاکستانی عسکری قیادت کے ساتھ رابطے کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایمرجنسی یا گورنر راج مسائل کا حل نہیں ،شوکت یوسفزئی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی خریداری کا معاہدہ طے پا جاتا ہے تو صومالیہ کو اپنی فضائی حدود کے دفاع اور جنگی ہوا بازی کی صلاحیت بحال کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار صرف طیاروں کی فراہمی پر نہیں ہوگا، بلکہ پائلٹوں کی تربیت، فنی عملے کی تیاری، مرمت، اسلحے، بنیادی ڈھانچے اور طویل مدتی مالی وسائل کی دستیابی بھی اہم ہوگی۔دفاعی تجزیے میں ماضی کی بعض اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صومالیہ کے لیے جے ایف 17 تھنڈر کے 24 طیاروں اور تقریباً 90 کروڑ ڈالر کے ممکنہ پیکیج پر بات چیت کے دعوے سامنے آ چکے ہیں۔ تاہم ان اعداد و شمار کی تازہ معاہدے کے تناظر میں آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی، اس لیے انہیں حتمی خریداری کی تفصیلات قرار نہیں دیا جا سکتا۔
پاکستان کے لیے بھی ایسا کوئی معاہدہ دفاعی برآمدات کے ساتھ ساتھ پائلٹوں کی تربیت، دیکھ بھال اور تکنیکی معاونت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا موقع بن سکتا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ممکنہ معاہدے میں پاکستان کی جانب سے کون سی اضافی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔












