پشاور ( پاک ترک نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے خیبر پختونخوا میں سیاسی کشیدگی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایمرجنسی یا گورنر راج مسائل کا حل نہیں، ملک میں سیاسی استحکام کے لیے حکومت کو ضد اور انا چھوڑ کر مذاکرات کرنا ہوں گے۔شوکت یوسفزئی نے کہا کہ 12 اضلاع کے لیے الگ انتظامی ڈھانچے پر غور اٹھارویں آئینی ترمیم کا مذاق ہے۔ پیپلز پارٹی اٹھارویں ترمیم اور سابق قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کا کریڈٹ لیتی رہی ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ تحریک انصاف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اداروں کے ساتھ کھڑی ہے اور اس جنگ میں رکاوٹ نہیں۔ وفاقی حکومت دہشت گردی سے متعلق کل جماعتی کانفرنس کے اعلامیے پر عمل درآمد کرے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی بحران کا حل مذاکرات میں ہے۔ تحریک انصاف ایک جمہوری جماعت ہے اور اس نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا۔ سیاسی جماعتوں کے خلاف طاقت کا استعمال ملک میں استحکام نہیں لا سکتا۔شوکت یوسفزئی نے خیبر پختونخوا میں سیاسی کارکنوں اور ارکان پارلیمنٹ کی گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزرا کے بیانات اور دھمکیوں نے سیاسی ماحول خراب کیا ہے۔ بلاول بھٹو کو سمجھنا چاہیے کہ جائز حقوق کے لیے آواز اٹھانا انتہا پسندی نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج؟ ایوانِ صدر میں شام پانچ بجے اہم اجلاس متوقع
مولانا فضل الرحمان کی ممکنہ ثالثی سے متعلق سوال پر شوکت یوسفزئی نے کہا کہ انہیں اس حوالے سے علم نہیں، تاہم مولانا فضل الرحمان ثالثی کے لیے آگے آتے ہیں تو تحریک انصاف ان کا خیرمقدم کرے گی۔ ان کے مطابق موجودہ سیاسی کشیدگی میں ثالثی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔پی ٹی آئی رہنما نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مینڈیٹ کا احترام کرے اور طاقت کے استعمال سے گریز کرے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت کوئی غیر جمہوری اقدام نہیں کرے گی، کیونکہ ملک کو اس وقت سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔شوکت یوسفزئی نے دعویٰ کیا کہ حکومتی غلط فہمی 11 اکتوبر کو دور ہو جائے گی اور لاکھوں افراد تمام رکاوٹیں عبور کرکے صوابی پہنچیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی دباؤ کے باوجود تحریک انصاف کے کارکنوں کا جذبہ بڑھتا جا رہا ہے۔







