لاہور: (پاک ترک نیوز)کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ جب نیند پوری نہیں ہوتی، تو آپ کا دماغ سوچنے، یاد رکھنے اور توجہ دینے میں سست ہو جاتا ہے۔
سائنسدانوں نے اب اس کے پیچھے چھپی حیران کن حقیقت دریافت کر لی ہے۔میساچیوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی ایک تحقیق کے مطابق، نیند کی کمی صرف تھکن یا توانائی کی کمی نہیں بلکہ دماغ کے اندر ایک حیاتیاتی عمل سے جڑی ہوئی ہے۔
جب ہم پوری نیند نہیں لیتے تو دماغ کے اندر سی ایس ایف، کی حرکت بیداری کے دوران بھی بڑھ جاتی ہے۔عام حالات میں سی ایس ایف نیند کے دوران دماغ میں جمع ہونے والے فاضل مادوں کو صاف کرتا ہے، جو دماغ کی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے۔
لیکن نیند کی کمی کی صورت میں یہ نظام دن کے وقت بھی فعال ہو جاتا ہے، اور اس دوران دماغ توجہ مرکوز کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔تحقیق میں 26 رضاکاروں کو شامل کیا گیا۔
ٹیسٹ دو مراحل میں کیے گئے: ایک مرحلہ نیند کی کمی کے بعد اور دوسرا مکمل نیند کے بعد۔ اگلی صبح مختلف ذہنی سرگرمیوں کے ذریعے دماغی افعال کا جائزہ لیا گیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ نیند کی کمی دماغ کو فوری طور پر توجہ میں کمی کا سبب بناتی ہے، حالانکہ یہ عمل دراصل دماغ کی جانب سے نیند کی کمی کا ازالہ کرنے کی کوشش ہے۔
محققین کے مطابق یہ ایک قدرتی حفاظتی عمل ہے، لیکن اس کی قیمت فوری طور پر ہماری ذہنی کارکردگی کے نقصان کی صورت میں ادا کی جاتی ہے۔
اس تحقیق کے نتائج سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس میں شائع ہوئے ہیں، اور یہ واضح کرتے ہیں کہ نیند کی کمی صرف جسمانی تھکن نہیں بلکہ دماغ کے اندر حقیقی حیاتیاتی ردعمل پیدا کرتی ہے، جو ہماری روزمرہ کی کارکردگی اور فیصلہ سازی پر اثر انداز ہوتی ہے۔لہذا، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا دماغ بہترین کام کرے، تو نیند کو نظر انداز کرنا مہنگا پڑ سکتا ہے!












