ریاض ( پاک ترک نیوز) سعودی عرب میں زیرِ تعمیر جے ای سی ٹاور نہ صرف تیزی سے اونچائی پکڑ رہا ہے بلکہ ماہرین کے مطابق یہ مستقبل میں دنیا کی سب سے بلند عمارت کا تاج بھی چھین سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا انسان ایک کلومیٹر اونچی عمارت بنانے میں کامیاب ہو جائے گا؟ دیکھیے یہ سنسنی خیز رپورٹ۔
سعودی عرب کے شہر جدہ میں آسمان کو چھوتا ہوا ایک ایسا میگا پراجیکٹ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے جس نے دنیا بھر کے انجینئرز اور ماہرین کو حیران کر دیا ،جے ای سی ٹاور اب 102 منزلوں تک پہنچ چکا ہے اور تعمیراتی رفتار اس قدر تیز ہے کہ چند ہی ہفتوں میں اس نے 100 منزلوں کا سنگ میل عبور کر لیا۔
یہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد ایک کلومیٹر سے بھی زیادہ بلند ہوگا اور دنیا کی سب سے اونچی عمارت کا اعزاز اپنے نام کر سکتا ہے۔معروف آرکیٹکس ادارے کے مطابق اس عمارت میں 157 منزلیں ہوں گی یعنی یہ ایک مکمل عمودی شہر کی شکل اختیار کر لے گی۔
کمپنی کے مطابق اس عمارت کا ڈیزائن سادہ مگر انتہائی مضبوط ہے، جس میں روایتی کالمز، بیمز اور پیچیدہ سپورٹ سسٹمز نہیں رکھے گئے۔ اس کے تمام دیواریں آپس میں جڑی ہوئی ہیں اور ہر ساختی حصہ ہوا کے دباؤ اور عمودی وزن دونوں کو برداشت کرتا ہے۔
انجینئرنگ کمپنی کے مطابق اس منصوبے میں انتہائی طاقتور کنکریٹ سسٹم استعمال کیا جا رہا ہے، جس میں پورا ڈھانچہ دیواروں کے جال کی صورت میں بنایا جا رہا ہے تاکہ وہ ہوا کے شدید دباؤ اور وزن کو برداشت کر سکے۔
عمارت کے نیچے ایک بہت بڑا فاؤنڈیشن سسٹم بنایا گیا ، جس میں 5 میٹر موٹی رافٹ فاؤنڈیشن شامل ہے، جو 270 گہرے پائلز پر مشتمل ہے۔ ہر پائل تقریباً 1.8 میٹر قطر اور 105 میٹر گہرائی تک زمین میں نصب کیا گیا ہے۔
اگر یہ منصوبہ مکمل ہو جاتا ہے تو یہ موجودہ دنیا کی سب سے بلند عمارت برج خلیفہ سے بھی کئی سو میٹر زیادہ اونچی ہوگی، جبکہ امریکہ کے ون ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے دوگنا بلند ہو گی۔












