ریاض ( پاک ترک نیوز) سعودی عرب نے جولائی میں اشیا کی تجارت میں 3 ارب 83 کروڑ ڈالر کا تجارتی سرپلس حاصل کیا، تاہم گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں تجارتی سرپلس میں 25 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔سعودی جنرل اتھارٹی برائے شماریات کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں سعودی عرب کی مجموعی برآمدات 17.2 فیصد کمی کے بعد 84 ارب 38 کروڑ ریال رہیں، جبکہ درآمدات 15.4 فیصد کمی کے بعد 70 ارب 2 کروڑ ریال ریکارڈ کی گئیں۔اعداد و شمار کے مطابق افریقی ممالک میں مصر سعودی عرب کا سب سے نمایاں تجارتی شراکت دار رہا۔ مصر سعودی عرب کی 10 بڑی برآمدی منڈیوں اور درآمدی ذرائع میں شامل واحد افریقی ملک تھا۔
سعودی عرب کی مجموعی برآمدات میں چین کا حصہ سب سے زیادہ 13.4 فیصد رہا، متحدہ عرب امارات 10 فیصد کے ساتھ دوسرے اور جاپان 8.7 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔درآمدات کے حوالے سے بھی چین سب سے بڑا ذریعہ رہا، جہاں سے سعودی عرب نے اپنی مجموعی درآمدات کا 22.7 فیصد حاصل کیا۔ امریکا 8.4 فیصد اور سوئٹزرلینڈ 6.9 فیصد کے ساتھ نمایاں رہے۔غیر تیل برآمدات کے لیے متحدہ عرب امارات سعودی عرب کی سب سے بڑی منڈی رہی، جہاں 6 ارب 61 کروڑ ریال مالیت کا سامان برآمد کیا گیا۔ بھارت 3 ارب 20 کروڑ ریال کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودیہ پرحملے، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے فوجی سربراہوں کا ہنگامی اجلاس طلب
سعودی عرب کی مجموعی برآمدات میں تیل کا کردار بدستور مرکزی رہا۔ جولائی میں مجموعی برآمدات میں تیل کا حصہ بڑھ کر 71 فیصد ہوگیا، جو گزشتہ سال اسی مہینے میں 67.4 فیصد تھا۔دوسری جانب غیر تیل برآمدات اور دوبارہ برآمد کیے جانے والے سامان میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ غیر تیل برآمدات، بشمول دوبارہ برآمدات، میں 26.2 فیصد کمی ہوئی، جبکہ صرف ملکی غیر تیل برآمدات 14.8 فیصد کم ہوئیں۔












