نیو یارک ( پاک ترک نیوز) سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے درمیان نیویارک میں اہم اجلاس ہوا۔سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت مشاورت کے سلسلے میں سعودی عرب کے اقوام متحدہ میں مستقل مشن کے صدر دفتر میں ہوا۔اجلاس میں معاہدے کے عمومی سیکریٹریٹ، کمیٹیوں اور ورکنگ گروپس کے قیام میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جبکہ انہیں باقاعدہ طور پر کام شروع کرنے کی تیاریوں پر بھی غور کیا گیا۔
تینوں وزرائے خارجہ نے مکہ مکرمہ اور سعودی عرب میں شہریوں اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی شدید مذمت کی۔وزرائے خارجہ نے سعودی مسلح افواج کی مستعدی اور مملکت کے دفاع کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے سعودی عرب کے اس حق کی توثیق کی کہ وہ اقوام متحدہ کے منشور کی شق اکاون کے تحت اپنی سلامتی کے دفاع کے لیے مناسب اقدامات کر سکتا ہے۔اجلاس میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے مسلح افواج کے سربراہان کے ہنگامی اجلاس کی تیاریوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس اجلاس میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی معاونت کے طریقوں کا جائزہ لیا جائے گا۔معاہدے کے مطابق کسی ایک فریق پر حملہ تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کا پاکستان میں قوانین میں 174ترامیم کا مطالبہ ،حکومت کا ترامیم پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ
تینوں وزرائے خارجہ نے خطے کی موجودہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور بین الاقوامی قانون، ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات، ریاستوں کی خودمختاری کے احترام اور داخلی معاملات میں عدم مداخلت کے اصولوں کی پاسداری پر زور دیا۔اجلاس میں بحری راستوں کی سلامتی اور آزادانہ آمدورفت یقینی بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔تینوں ممالک نے خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے کوششیں جاری رکھنے، کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی حمایت اور جاری بحرانوں کے پرامن حل کے لیے اقدامات آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔












