از: سہیل شہریار
یہ صرف کان کنی کا منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان کے لیے اقتصادی ترقی کا ایک انجن ہے۔چنانچہ ر یکو ڈک مالی اور سماجی طور پر بڑے پیمانے پر وسائل کی ترقی تک پہنچنے کے طریقے کو نئے سرے سے متعین کرے گا۔ایک بار مالیاتی بندوبست باضابطہ طور پر مکمل ہونے کے بعد تعمیراتی عمل متحرک کرنے، سازوسامان کی خریداری، اور سائٹ کی ترقی پر کام شروع ہو جائے گا۔
پاکستانیوں کے لئے بڑی خبر یہ ہے کہ ملک میں کان کنی اور سرمایہ کاری کے منظر نامے کے لیے ایک تاریخی پیشرفت میں طویل عرصے سے التوا کا شکار ریکوڈک تانبے اور سونے کا منصوبہ اب ستمبر کے آخر یا اکتوبر کے شروع تک مالیاتی بندوبست کا عمل مکمل کر لے گا۔
https://www.youtube.com/watch?v=BgZ9DwRwAhA
بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع اس منصوبے سے توقع ہے کہ یہ اپنی 37 سالہ زندگی میں 74 ارب ڈالرنقد رقم فراہم کرے گا۔
مالیاتی بندوبست کی تکمیل کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہو ئے منصوبے کی شراکت دار تین سرکاری کمپنیوں او جی ڈی سی ایل۔ پی پی ایل اور جی ایچ پی ایل کی سالانہ جنرل میٹنگز اور بورڈز آف ڈائریکٹرز نے باضابطہ طور پر منصوبے کے لئےساڑھے71 کروڑ ڈالر اضافی لاگت کی منظوری دی۔ جس سے ریکو ڈیک منصوبے کل حجم7.48 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ جو قرض دہندگان کے قدامت پسندانہ جائزوں کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم سخت مالی کنٹرول اورعملی اقدامات سے منصوبے کو 6.765 ارب ڈالر لاگت کے اصل تخمینہ کے اندر مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
ریکوڈ ک منصوبے کی تعمیر ان شا اللہ دسمبر 2025 میں شروع ہونے والی ہےاور 2028 میں پیداوار کے آغازکا ہدف رکھا گیا ہے۔ منصوبے کا مالیاتی ماڈل ففٹی ففٹی ایکویٹی ٹو ڈیبٹ ریشو کے مطابق تشکیل دیا گیا ہے۔جبکہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے خصوصی ادارہ ریکوڈک مائننگ کمپنی (آر ڈی ایم سی) قائم کی گئی ہے۔جس میں بیرک گولڈ کارپوریشن اور پاکستان اور بلوچستان کی حکومتوں کے درمیان متوازن شراکت داری شامل ہے۔بیرک گولڈ لیڈ آپریٹر اور غیر ملکی سرمایہ کار ہے جو آر ڈی ایم سی میں 50 فیصد حصص رکھتا ہے۔ جبکہ بقیہ 50 فیصد حصص میں حکومت پاکستان کی کمپنیاںاو جی ڈی سی ایل، پی پی ایل اور جی ایچ پی ایل اور حکومت بلوچستان کے یکساں 25فیصد حصص ہیں۔
https://www.youtube.com/shorts/HpP8uUSj5GY
ریکو ڈیک منصوبے نے خاطر خواہ بین الاقوامی مالی مدد حاصل کی ہے۔ عالمی بنک کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) نے 70 کروڑ ڈالر کی فنڈنگ کا وعدہ کیا ہے۔ جس میں 40 کروڑ ڈالر کا ماتحت قرض بھی شامل ہے۔اس کے ساتھ ایشیائی ترقیاتی بینک نے 40 سالوں میں کان کنی کے شعبے کی اپنی پہلی سرمایہ کاری کرتے ہوئے30 کروڑ ڈالر کے قرض کی منظوری دی ہے۔ اس کے علاوہ ایشیائی ترقیاتی بنک نے اپنے حصص کو مضبوط بنانے اور ممکنہ خطرات سے بچانے کے لیے حکومت بلوچستان کو 11کروڑ ڈالر کی کریڈٹ گارنٹی بھی دی ہے۔
مزید براں ریکو ڈیک منصوبے میں سرمایہ کاری کے لئے یو ایس ایگزم بینک، ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ کینیڈا، اور جاپان بینک برائے بین الاقوامی تعاون (جے بی آئی سی) کے ساتھ بات چیت آخری مراحل میں ہے اورجلد ہی مزید سرمایہ کاری کی آمد متوقع ہے۔












