
از:سہیل شہریار
قوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی نے انکشاف کیا ہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک شہریت کے حصول کی درخواستیں مسترد ہونے کے بعدافغان پناہ گزینوں کوافغانستان واپس بھجوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی رپورٹ کے مطابق بیرون ملک مقیم تقریباً 45 لاکھ افغان اپنے ملک واپس جا رہے ہیں۔مگرافغانستان کو جن مسائل کا سامنا ہے ان میں گہری غربت، سخت موسمی حالات، حالیہ زلزلوں سے ہونے والے نقصانات اور طالبان کی طرف سے بنیادی انسانی حقوق پر سخت پابندیاں، خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کو متاثر کرنا شامل ہیں۔چنانچہ واپس آنے والوں کو جذب کرنے کی صلاحیت کا یہ فقدان یورپی یونین کے متعدد رکن ممالک میں غیر قانونی طور پر قیام پذیر افغانوں کو ملک بدر کرنے کی یورپی کوششوں کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ 20 یورپی ممالک کی طرف سے مسترد شدہ افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے دباؤ کے بعدبرسلز نے طالبان کے ساتھ بات چیت شروع کر دی ہے۔جو ایک ایسی حکومت ہے جسے یورپی یونین باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کرتی۔
یورپی یونین کی ایجنسی برائے پناہ (ای اے ایس او) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، جون اور اگست 2025 کے درمیان مجموعی طور پر 63 فیصد افغان پناہ گزینوں کویورپی یونین اور اس سے وابستہ ممالک میں پناہ گزینوں کے طور پر تسلیم کیا گیا۔
ای اے ایس اوکے ڈیٹا میں یورپی یونین میںافغانوں کو دیا گیا خصوصی تحفظ حاصل کرنے والوں اور ساتھ ہی مسترد ہونے کے بعد عدالتی حکام سے اپیل میں جانے والوں کے اعداد وشمار شامل نہیں ہیں۔
یو این ڈی پی کے مطابق تقریباً ساڑھے 4کروڑ کی آبادی کے ساتھ افغانستان دنیا کے غریب ترین ممالک میںشامل ہے۔اور غربت کے کثیر جہتی انڈیکس کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اسکی تقریباً دو تہائی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزاررہی ہے۔جبکہ 76فیصد آبادی ہر قسم کی سہولتوں سے محروم ہے۔
رپورٹ کے مطابق2021 میں موجودہ افغان طالبان کےاقتدار میں آنے کے بعد سے افغان خواتین اور لڑکیاں اپنے حقوق سے محروم ہیں۔ انہیں بنیادی تعلیم کے علاوہ تمام کاموں سے روک دیا گیا ہے۔ان کی نقل و حرکت اور عوامی زندگی میں شرکت پر سخت پابندی ہے۔
اس وقت وطن واپس آنے والے افغان شہری بنیادی طور پر ایران اور پاکستان سے واپس آ رہے ہیں۔ چاہے وہ طاقت کے ذریعے ہو یا اپنی مرضی سے۔اور ان میں سے تقریباً 10 فیصدلوگ اثاثے لائے بغیر واپس آ رہے ہیں۔حقیقت میں وہ اپنے کپڑوں کے علاوہ جو کچھ اپنے ساتھ لارہے ہیں وہ قرض ہے۔ واپس آنے والوں کے لیے نوکری تلاش کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ جب وہ آتے ہیں تو ان کے پاس گھر اور صحت اور تعلیم کی بنیادی خدمات نہیں ہوتی ہیں۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ خواتین کو کام نہیں مل پاتا۔












