لاہور (پاک ترک نیوز ) پنجاب کا پانچ ہزار نو سو تین ارب روپے کا بجٹ ایوان میں پیش کر دیا گیا ،وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بجٹ پیش کیا ۔
وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا صحت کے شعبے کے لیے 500 ارب 62 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے ، صحت کے بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں 424 ارب 32 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔
وزیر خزانہ نے کہا صحت کے شعبے میں ترقیاتی اخراجات کی مد کے لیے 76 ارب 30 کروڑ روپے تجویز ہے ، شعبہ صحت کے لیے مختص کل رقم صوبے کے مجموعی بجٹ کا 10 فیصد سے زائد ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ کی تعمیر 75 ارب کی لاگت سے جاری ہے۔ کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے لیے آئندہ مالی سال میں 20 ارب روپے مختص کیے گئے۔
نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سرگودھا اور جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔
کارڈیالوجی ہسپتالوں کے منصوبوں پر مجموعی طور پر 28 ارب 94 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ لاہور کے پرانے بلاکس کی بحالی پر 2 ارب 45 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ نشتر ہسپتال ملتان کے بلاکس کی بحالی اور اپ گریڈیشن کا 5 ارب روپے کی لاگت سے آغاز کر دیا گیا۔
وزیر خزانہ نے کہا نئے مالی سال 2026-27 میں تعلیم کے شعبے کے لیے 750 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے،تعلیم کے بجٹ میں ترقیاتی مد کے لیے 63 ارب 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں، تعلیمی شعبے کے غیر ترقیاتی مد میں 686 ارب 80 کروڑ روپے شامل کیے گئے ہیں۔ نئے مالی سال کے بجٹ میں شعبہ تعلیم کے لیے مختص رقم مجموعی بجٹ کا 15 فیصد سے زائد ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا : وزیر اعلیٰ پنجاب لیپ ٹاپ پروگرام کے تحت 1 لاکھ 10 ہزار جدید لیپ ٹاپس فراہم کیے جائیں گے، لیپ ٹاپس کی فراہمی کا یہ منصوبہ 27 ارب روپے کی خطیر لاگت سے شروع کیا گیا ہے۔ ہونہار اسکالرشپ پروگرام کے لیے 15 ارب روپے مختص کیے گئے۔
وزیر خزانہ نے کہا مالی سال 2025-26 کے ترقیاتی بجٹ کے تحت 2638 منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچے۔ 2638 ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل 1150 ارب روپے کی لاگت سے کی گئی۔ یہ منصوبے مالی سال 2024-25 کے ترقیاتی اخراجات سے 16 فیصد زیادہ ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا وفاقی حکومت کی جانب سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت پنجاب کے لیے 4390 ارب 94 کروڑ روپے کا تخمینہ ہے، این ایف سی کے تحت پنجاب کا تخمینہ گزشتہ مالی سال کی نسبت 8.1 فیصد زیادہ ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا نئے مالی سال کے لیے صوبائی آمدن کے حصول کا ہدف 1209 ارب 86 کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے، پنجاب ریونیو اتھارٹی کے لیے 528 ارب 50 کروڑ روپے کی وصولی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا بورڈ آف ریونیو کے لیے ٹیکس وصولی کا ہدف 86 ارب 19 کروڑ روپے مقرر کیا گیا، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کو 124 ارب روپے کی وصولی کا ہدف دیا گیا۔ صوبائی نان ٹیکس محصولات کا تخمینہ 461 ارب 17 کروڑ روپے لگایا گیا ۔
وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع نے کہا صوبے کے 44 فیصد بچے غذائیت کی کمی کا شکار تھے، حقائق کو مدنظر رکھ کر پروگرام شروع کیا گیا، غذائیت کی کمی دور کرنے کے پروگرام کے لیے آئندہ مالی سال میں 4 ارب روپے تجویز ہے
وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع نے کہا خطرناک اسکول عمارات کی بحالی کے لیے 40 ارب روپے کے پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے، آئندہ مالی سال میں 244 کالجز میں آئی ٹی لیبس قائم کی جائیں گی۔












