نئی دہلی(پاک ترک نیوز) مقبوضہ کشمیر کے بعد لداخ میں بھی سول نافرمانی کی تحریک شروع ہو گئی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق لداخ میں بھارتی مظالم کے خلاف مزاحمت اور مظاہرے شروع ہو گئے۔ جس کے بعد حکومت نے کرفیو نافذ کر دیا۔ لداخ میں آئینی حقوق کا مطالبہ کرنے پر مظاہرین پر شیلنگ اورلاٹھی چارج بھی کیا گیا۔
بھارتی فورسز کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق اور 70 سے زائد زخمی ہو گئے۔ مظاہروں کے دوران 5 بھارتی فوجی ہلاک اور 10 سی آر پی ایف اہلکار زخمی ہو گئے۔ مظاہرین نے لداخ پر بھارتی قبضہ چیلنج کردیا۔
وزیر اعلیٰ مقبوضہ کشمیر عمر عبداللہ نے لداخ میں ہونے والے مظاہروں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ لداخی عوام خود کو دھوکے اور غصے کی کیفیت میں محسوس کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر آج لداخ خود کو محرومی اور مایوسی کا شکار سمجھ رہا ہے تو کشمیریوں کا دکھ کتنا گہرا ہوگا؟
کے ایم سی کے مطابق لداخ میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے 3 دفاتر، 15 چوکیوں اور پولیس وین کو بھی نذر آتش کر دیا۔ احتجاج کی قیادت کارگل ڈیموکریٹک الائنس اور لہہ اپیکس باڈی کر رہی ہیں۔بھارتی قابض انتظامیہ نے مظاہرین سے مذاکرات کا اعلان کر دیا۔











