تل ابیب (پاک ترک نیوز) کیا واقعی ہزاروں یہودیوں نے اسرائیل سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا؟۔کیا یہ آواز یہودی دنیا میں کسی بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے؟ایک ایسا اجتماع جس نے دنیا بھر میں نئی بحث چھیڑ دی ۔ دس ہزار سے زائد یہودی ایک جگہ جمع ہوئے اور وہاں ایسا اعلان کیا گیا جس نے عالمی میڈیا کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔
رپورٹس کے مطابق ہزاروں یہودیوں کا ایک بڑا اجتماع ہوا جس میں مذہبی رہنماؤں اور شرکا نے اسرائیل کی موجودہ پالیسیوں سے اختلاف کا اظہار کیا۔
یہودیوں کے ممتاز ربی ارون ٹائٹل باؤم نے واضح طورپر کہہ دیا کہ وہ اسرائیل میں شامل نہیں ۔۔اپنے دین کے نام پر صہیونیت کی مخالفت جاری رکھیں گے۔یہودیت اور صہیونیت ایک نہیں ۔یہودیت ایک مذہب ہے، جبکہ اسرائیل ایک سیاسی ریاست ہے، اور دونوں کو ایک ہی چیز سمجھنا درست نہیں۔۔دنیا بھر میں بہت سے یہودی ایسے ہیں جو مذہبی طور پر یہودی ہونے کے باوجود اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتے ہیں۔
اجتماع میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ مذہب کے نام پر ہونے والے سیاسی فیصلوں سے وہ خود کو الگ سمجھتے ہیں۔ان کے مطابق یہودیت امن، انصاف اور انسانیت کا پیغام دیتی ہے۔
یہودیوں کے ایکس اکائونٹ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ۔ صہیونیت کو رد کرنا یہودی عوام سے نفرت کرنے کے مترادف نہیں۔ یہودیت ایمان، اخلاقیات اور خدائی قانون ہے، سیاسی نظریہ نہیں۔
اس بڑے اجتماع کے بعد عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔کیا یہ آواز یہودی دنیا میں بڑھتے اختلافات کی علامت ہے؟ یا صرف ایک مخصوص گروہ کی رائے؟
بعض مبصرین کے مطابق یہودی دنیا کے اندر مختلف آراء پہلے سے موجود ہیں، اور ایسے بیانات اسی اختلاف کی عکاسی کرتے ہیں۔
بہر حال، ہزاروں افراد کے اس اجتماع اور ربی کے بیان نے ایک بار پھر اسرائیل، مذہب اور سیاست کے تعلق پر عالمی سطح پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔












