اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں سرکاری ملازمین، پنشنرز اور تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بڑھتی ہوئی مہنگائی، روزمرہ اخراجات میں اضافے اور معاشی دباؤ کے پیشِ نظر حکومت تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے متعدد آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ سرکاری ملازمین کو کچھ حد تک مالی سہولت فراہم کی جا سکے۔
بجٹ تجاویز میں بنیادی تنخواہوں میں اضافہ، ایڈہاک ریلیف الاؤنس، ہاؤس رینٹ اور دیگر مراعات میں ممکنہ بہتری جیسے نکات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پنشنرز کے لیے بھی خصوصی ریلیف پیکیج زیرِ غور ہے تاکہ ریٹائرڈ ملازمین کو موجودہ معاشی صورتحال کے اثرات سے بچانے میں مدد مل سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف وزارتوں اور متعلقہ اداروں سے مالی تخمینے طلب کیے جا چکے ہیں تاکہ دستیاب وسائل کے مطابق حتمی سفارشات مرتب کی جا سکیں۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران مہنگائی کی بلند شرح نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے کو شدید متاثر کیا ہے۔ اشیائے خورونوش، بجلی، گیس، پیٹرولیم مصنوعات اور دیگر ضروری اخراجات میں مسلسل اضافے کے باعث سرکاری ملازمین کی آمدن اور اخراجات کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں ملازمین کی تنظیمیں اور پنشنرز کے نمائندے حکومت سے مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ تنخواہوں اور پنشن میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج مالیاتی خسارے کو کنٹرول کرتے ہوئے عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ ایک طرف حکومت کو ٹیکس آمدن بڑھانے اور اخراجات محدود رکھنے کی ضرورت ہے جبکہ دوسری جانب تنخواہ دار طبقہ مہنگائی کے باعث فوری ریلیف کا منتظر ہے۔ اسی لیے بجٹ سازی کے عمل میں توازن برقرار رکھنا حکومت کے لیے اہم مرحلہ تصور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق زیرِ غور تجاویز میں کم تنخواہ والے ملازمین کو نسبتاً زیادہ ریلیف دینے کی سفارش بھی شامل ہے تاکہ نچلے گریڈ کے سرکاری ملازمین کو براہِ راست فائدہ پہنچ سکے۔ اس کے علاوہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ٹیکس سلیب میں بھی کچھ تبدیلیاں متعارف کرائی جائیں تاکہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم ہو سکے۔ حکومت مختلف معاشی اشاریوں اور مالی وسائل کا جائزہ لینے کے بعد حتمی فیصلے کرے گی۔
دوسری جانب سرکاری ملازمین کی تنظیموں نے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ بجٹ میں عملی اور مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں معمولی اضافے کے بجائے ایسا ریلیف دیا جانا چاہیے جو ملازمین کی حقیقی ضروریات کو پورا کر سکے۔ ماہرین کے مطابق آئندہ وفاقی بجٹ نہ صرف معیشت بلکہ لاکھوں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی زندگیوں پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوگا، اسی لیے اس بجٹ کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔












