لاہور( پاک ترک نیوز) ہر روز پٹرول مہنگا۔ ہر روز عوام پر نیا بوجھ۔۔۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ تعین عوام کے لیے نئی پریشانی بن گیا۔۔ ایک ماہ میں پٹرول بتیس روپے اور ڈیزل سڑسٹھ روپے فی لٹر مہنگا ہو چکا ہے۔۔ ٹرانسپورٹ سے لے کر سبزی، دودھ، آٹا، تعمیراتی سامان اور روزمرہ استعمال کی ہر چیز مہنگی ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔۔ عوام کا کہنا ہے کہ اب تنخواہیں نہیں، صرف مہنگائی بڑھ رہی ہے۔۔۔ آخر روزانہ بدلتی قیمتوں کا عام آدمی کی زندگی پر کیا اثر پڑ رہا ہے؟ دیکھیے اس رپورٹ میں۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا ہے۔۔ پٹرول چار روپے چالیس پیسے فی لٹر مہنگا ہونے کے بعد تین سو اکتیس روپے باون پیسے کا ہو گیا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت تین روپے باسٹھ پیسے اضافے کے بعد تین سو اٹھہتر روپے چھیاسٹھ پیسے فی لٹر تک پہنچ گئی ہے۔
صرف ایک ماہ کے دوران پٹرول کی قیمت میں بتیس روپے اور ڈیزل کی قیمت میں سڑسٹھ روپے فی لٹر اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ رواں ہفتے کے دوران پٹرول تیسری اور ڈیزل چوتھی بار مہنگا کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پٹرول پمپوں پرلوٹ مار،ذمہ دار کون؟
ماہرین کے مطابق پٹرول صرف گاڑی چلانے والوں کو ہی متاثر نہیں کرتا بلکہ اس کی قیمت بڑھتے ہی پوری معیشت پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ جاتے ہیں، جس کے بعد سبزیاں، پھل، دودھ، آٹا، چینی، دالیں، گوشت اور دیگر اشیائے خور و نوش مہنگی ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ڈیزل مہنگا ہونے سے ٹرک، بسیں، مال بردار گاڑیاں، زرعی مشینری اور صنعتی شعبے کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں، جس کا بوجھ بالآخر عام صارف کو اٹھانا پڑتا ہے۔
روزانہ قیمتوں میں ردوبدل نے عوام کی پریشانی مزید بڑھا دی ہے۔۔ شہری کہتے ہیں کہ صبح گھر سے نکلتے ہیں تو معلوم نہیں ہوتا شام تک پٹرول کی قیمت کیا ہوگی۔ بجٹ بنانا ناممکن ہو گیا ہے، کیونکہ ہر روز نئی قیمت، ہر روز نئے اخراجات سامنے آ جاتے ہیں۔تنخواہ دار طبقہ کہتا ہے کہ آمدنی وہی ہے مگر اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ موٹر سائیکل چلانا، بچوں کو اسکول چھوڑنا، دفتر جانا اور روزگار کمانا بھی پہلے سے کہیں زیادہ مہنگا ہو چکا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہےپٹرول روز مہنگا ہوگا تو ہم اپنے گھر کا خرچہ کیسے چلائیں گے؟ پہلے ہی تنخواہ پوری نہیں پڑتی۔صرف پٹرول نہیں، ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ سبزی والا، دودھ والا، رکشہ والا، سب کرایہ بڑھا دیتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ عوام کو ریلیف دے، روز روز قیمتیں بڑھانے سے عام آدمی کی زندگی مشکل ہوتی جا رہی ہے ۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری رہا تو مہنگائی کی مجموعی شرح میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ، صنعت، زراعت اور چھوٹے کاروبار شدید دباؤ کا شکار ہوں گے، جبکہ عام آدمی کی قوت خرید مزید کم ہونے کا خدشہ ہے۔
پٹرول کی بڑھتی قیمتیں صرف گاڑی کے ٹینک تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ہر گھر کے باورچی خانے، ہر دکان، ہر بازار اور ہر کاروبار تک پہنچ جاتی ہیں۔ ایسے میں عوام کا مطالبہ ہے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام لائے، مہنگائی پر قابو پائے اور عام آدمی کو فوری ریلیف فراہم کرے، کیونکہ ان کے بقول "ہر دن نیا ریٹ، ہر دن نئی مشکل” اب صرف ایک جملہ نہیں بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کی روزمرہ زندگی کی حقیقت بن چکا ہے۔












