لاہور( پاک ترک نیوز) حکومت نے پٹرول کی قیمت میں صرف پینتیس پیسے کمی کا اعلان کیا… مگر شہریوں کو اس ریلیف کا فائدہ نہیں ملا… لاہور سمیت کئی شہروں میں پٹرول سرکاری نرخ سے دو سے تین روپے فی لیٹر مہنگا فروخت ہونے لگا… سوال یہ ہے کہ اگر ایک پٹرول پمپ روزانہ ہزاروں لیٹر پٹرول فروخت کرتا ہے تو اس اضافی وصولی سے اسے کتنی کمائی ہوتی ہے؟ اور حکومتی ادارے اس کھلی خلاف ورزی پر خاموش کیوں ہیں؟ دیکھیے یہ خصوصی رپورٹ۔
حکومت نے نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا۔ پٹرول کی قیمت میں پینتیس پیسے کمی کے بعد نئی قیمت 315 روپے 80 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 71 پیسے اضافہ کر کے اسے 360 روپے 6 پیسے فی لیٹر کر دیا گیا۔پٹرولیم ڈویژن کے مطابق نئی قیمتوں کا تعین اوگرا کی سفارشات اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے تناظر میں کیا گیا۔لیکن زمینی حقیقت کچھ اور ہے۔
لاہور کے متعدد پٹرول پمپوں پر سرکاری نرخوں کے بجائے 318 روپے 23 پیسے یا اس سے بھی زیادہ قیمت پر پٹرول فروخت کیا جا رہا ہے۔
یعنی ہر لیٹر پر تقریباً 2 روپے 43 پیسے اضافی وصول کیے جا رہے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ جب حکومت قیمت کم کرتی ہے تو اس کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچتا، جبکہ قیمت بڑھتے ہی پٹرول پمپ فوری نئے نرخ نافذ کر دیتے ہیں۔
اب ذرا اس اضافی وصولی کا حساب بھی دیکھ لیجیے۔ اگر کوئی درمیانے درجے کا پٹرول پمپ روزانہ 10 ہزار لیٹر پٹرول فروخت کرے اور ہر لیٹر پر 2 روپے 43 پیسے اضافی وصول کرے تو ایک دن میں اضافی آمدن تقریباً 24 ہزار 300 روپے بنتی ہے۔
ایک ماہ میں یہی رقم تقریباً 7 لاکھ 29 ہزار روپے تک پہنچ جاتی ہے۔اگر فروخت 20 ہزار لیٹر روزانہ ہو تو اضافی کمائی 14 لاکھ 58 ہزار روپے ماہانہ سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پٹرول 4 روپے 93پیسے ،ڈیزل 7روپے 15پیسے فی لٹر مہنگا
اور اگر کسی بڑے شہر میں درجنوں یا سینکڑوں پٹرول پمپ اسی طرح سرکاری نرخ سے زیادہ قیمت وصول کریں تو مجموعی اضافی رقم کروڑوں روپے تک پہنچ سکتی ہے۔
قوانین کے مطابق اوگرا کی مقرر کردہ قیمت سے زیادہ نرخ وصول کرنا خلافِ ضابطہ ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری نرخ نافذ نہیں کرائے جا سکتے تو قیمتوں کے اعلان کا مقصد ہی کیا رہ جاتا ہے؟صارفین کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری کارروائی کرے، اضافی وصول کی گئی رقم کا حساب لیا جائے اور خلاف ورزی کرنے والے پٹرول پمپوں کے لائسنس معطل کیے جائیں۔
ماہرین معاشیات کے مطابق پٹرول صرف ایک ایندھن نہیں بلکہ پوری معیشت کی بنیاد ہے۔جب پٹرول مہنگا فروخت ہوتا ہے تو اس کے اثرات ٹرانسپورٹ، کرایوں، اشیائے خورونوش، تعمیرات اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز پر پڑتے ہیں۔
اگر چند روپے فی لیٹر کی غیر قانونی وصولی کو نظر انداز کیا جائے تو اس کا بوجھ بالآخر عام صارف ہی برداشت کرتا ہے۔
سرکاری قیمت ایک… پٹرول پمپ کا ریٹ دوسرا… اور نقصان صرف عوام کا۔اب سوال یہ ہے کہ کیا متعلقہ ادارے قانون پر عملدرآمد کرائیں گے یا شہری اسی طرح سرکاری نرخ صرف خبروں میں سنتے رہیں گے جبکہ جیب سے اضافی رقم ادا کرتے رہیں گے؟












