لاہور( پاک ترک نیوز) یہ صرف مہنگائی کی خبر نہیں بلکہ ہزاروں گھروں کے چولہے بجھنے کی کہانی ہے ،،ایک طرف پٹرول کی آگ تو دوسری طرف سواریوں کی کمی ،آن لائن ٹیکسی ڈرائیور دوہری مصیبت کی زد میں آ گئی ۔
ناظرین۔ مہنگائی نے جہاں عام شہری کی زندگی مشکل بنا دی ہے وہاں ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو روز کماتا ہے ،اب اس کی آمدن رک چکی ہے ،جو کبھی دن رات محنت کر کے گھر چلاتے تھے،آج وہ تقریبا بے روزگار ہو چکے ہیں ۔
پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے آن لائن ٹیکسی سروسز سے وابستہ ہزاروں ڈرائیورز کو شدید متاثر کیا ہے۔ڈرائیورز کے مطابق اب ایک دن کی کمائی کا بڑا حصہ صرف پٹرول پر ہی خرچ ہو جاتا ہے، جبکہ منافع نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔
دوسری جانب حکومت کی جانب سے مختلف شہروں میں فری یا سستی ٹرانسپورٹ کی سہولت نے بھی ان کی سواریوں میں واضح کمی کر دی ہے، جس سے ان کی آمدن مزید گر گئی ہے۔
روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے والے ڈرائیورز کے لیے سب سے بڑا مسئلہ فیول کی بڑھتی ہوئی قیمت ہے، جس نے ان کے اخراجات دوگنا کر دیے ہیں۔فری بس سروسز اور مہنگائی کے باعث لوگ کم سفر کر رہے ہیں، جس سے رائیڈز میں نمایاں کمی آئی ہے۔
آن لائن ٹیکسی ایپس ہر رائیڈ پر کمیشن کاٹتی ہیں، جس سے ڈرائیور کے ہاتھ میں آنے والی رقم مزید کم ہو جاتی ہے۔مہنگے سپیئر پارٹس، آئل چینج، ٹائر اور مرمت کے اخراجات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں، جو ڈرائیور کے لیے الگ بوجھ بن چکے ہیں۔
بہت سے ڈرائیورز نے گاڑیاں قسطوں پر لی ہوئی ہیں، اور اب کم آمدن کے باعث اقساط ادا کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ڈرائیورز کو پہلے سے زیادہ گھنٹے کام کرنا پڑ رہے ہیں، مگر اس کے باوجود آمدن کم ہو رہی ہے۔
رات کے اوقات میں کام کرنے والے ڈرائیورز کو ڈکیتی اور جرائم کا بھی سامنا ہے، جو ایک بڑا خطرہ ہے۔
متاثرہ ڈرائیورز کا کہنا ہے کہ اگر یہی حالات رہے تو انہیں یہ پیشہ چھوڑنا پڑے گا کیونکہ اب یہ کام گزارے کے قابل نہیں رہا۔
معاشی ماہرین کے مطابق حکومت کو پٹرول پر سبسڈٰ یا ریلیف دینا ہو گا،،آن لائن کمپنیوں کو کمیشن کم کرنا چاہیے،ڈرائیورز کے لیے خصوصی پیکجز یا مراعات دی جائیں،ناظرین! سوال یہ ہے کہ جو لوگ ہمیں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتے ہیں ،کیا اب وہ خود اپنی منزل تک پہنچ پائیں گے؟












