تہران ( پاک ترک نیوز) جہاں امریکہ اور ایران مذاکرات کی میز پر آنے کیلئے تیار ہیں وہیں ایک اہم انکشاف نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ۔ایران نے امریکہ کے فوجی اڈوں کو کس جاسوسی سیٹلائٹ سے نشانہ بنایا ہوشربا انکشاف سامنے آ گیا ۔
خفیہ دستاویزات کے مطابق ایران نے ایران نےچینی جاسوس سیٹلائٹ کے ذریعے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ خفیہ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے جنگ کےدوران چینی سیٹلائٹس سے مدد لی۔
2024 کے آخرمیں ایران نے چینی سیٹلائٹ تک رسائی حاصل کی، TEE-01B سیٹلائٹ چینی ساختہ اور چین سےہی خلا میں بھیجاگیا،ایرانی فوجی کمانڈرز نے اس سیٹلائٹ سے امریکی تنصیبات کی نگرانی کی۔
سیٹلائٹ نےاردن کےموافق السالتی ایئر بیس،بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے قریب مقامات،عراق کے اربیل ایئر پورٹ، کویت کے کیمپ بیوہرنگ اور علی السالم ایئر بیس، جبوتی میں کیمپ لیمونیئر اور عمان کے دقم ایئر پورٹ سمیت کئی دیگر تنصیبات کی نگرانی کی۔
خلیجی ممالک کےسویلین انفرا اسٹرکچرجیسے متحدہ عرب امارات کی خورفکن بندرگاہ،قیدفہ پاور و ڈی سیلینیشن پلانٹ اوربحرین کی الباایلومینیم فیکٹری کوبھی مانیٹرکیاگیا،سیٹلائٹ کی ہائی ریزولوشن تقریباً نصف میٹر صلاحیت ایران کو اہداف کی درست شناخت اور حملوں کی مؤثر منصوبہ بندی میں مدد دیتی ہے۔ادھرچینی دفترخارجہ نےایران کی فوجی مددکی تردید کرتےہوئےکہا ایران کو چین سے فوجی امداد ملنےکی خبریں من گھڑت ہیں،چین غیرمصدقہ معلومات پھیلانے کی مخالفت کرتا ہے اورہمیشہ امن کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔












