لاہور( پاک ترک نیوز) پاکستان میں منکی پاکس کا مرض کا تیزی سے پھیلاؤ۔۔کراچی کے بعد لاہور بھی منکی پاکس کے نشانے پر آ گیا ، منکی پاکس وائرس آخر آیا کہاں سے ہے اور کتنا خطرناک ہے ۔
پاکستان میں گزشتہ کئی ماہ سے منکی وائرس تیزی سے بڑھ رہا ہے ، لاہور میں مزید دو افراد میں وائرس کی تصدیق کر دی گئی ،اس طرح لاہور میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد تیس تک ہو گئی ، ،طبی ماہرین نے کہا لاہور میں منکی پاکس کا مقامی پھیلاؤ ہورہا ہے،منکی پاکس کے علامات والے افراد قرنطینہ اختیار کریں۔
دوسری طرف سندھ میں منکی پاکس سے اب تک نو اموات ہو چکی ہیں ۔محکمہ صحت سندھ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں مجموعی طور پر منکی پاکس سے 122 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے ، جن میں سے 25 کیسز کی لیبارٹری سے تصدیق ہو چکی ہے۔
منکی پاکس دراصل ایک ایسا وائرس ہے جو بنیادی طور پر جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو تا ہے ،مجموع طور پر منکی پاکس کی بائیس اقسام ہیں ۔چیچک بھی اس وائرس میں شامل ہے ۔
منکی پاکس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا آغاز جنوبی افریقہ سے ہوا، نکی پاکس کی دو اقسام دنیا میں موجود ہیں جن میں سے ایک قسم مغربی افریقا میں جبکہ دوسری وسطی افریقا میں کانگو طاس کے اطراف موجود ممالک میں پائی جاتی ہے۔دنیا میں انسانوں میں منکی پاکس کا پہلا تصدیق شدہ کیس 1970 میں افریقی ملک ڈیموکریٹک ری پبلک آف کانگو میں ایک بچے میں سامنے آیا تھا۔
انیس سو اٹھاون میں دو بندروں کو یہ بیماری ہونے پر اس کا نام منکی پاکس پڑ گیا،یہ بات طے ہے کہ اس وائرس کا منبع بندر نہیں ہیں اور نہ ہی یہ وائرس بندروں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے۔افریقی چوہوں کوبھی اس بیماری کے پھیلاؤ کا اصل ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔
اگر منکی پاکس کا حامل کوئی جانور کسی شخص کو کاٹ لے، پنچہ مار دے یا انسان اس کے فضلے و تھوک وغیرہ سے تعلق میں آجائے تو وائرس انسان میں منتقل ہوجاتا ہے اور پھر متاثرہ انسان دیگر انسانوں میں اس کے پھیلاؤ کا سسب بنتا ہے۔امریکی رپورٹ کے مطابق ایک انسان سے دوسرے انسان میں منکی پاکس کی منتقلی کی شرح 3.3 فیصد سے 30 فیصد کے درمیان ہے۔ البتہ کانگو میں وائرس کے حالیہ پھیلاؤ کی شرح 73 فیصد کے قریب ریکارڈ کی گئی۔
اگر کسی شخص میں منکی پاکس وائرس موجود ہے تو علامات ظاہر ہونے سے قبل ہی وہ اس وائرس کو دوسرے انسان میں منتقل کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ عام طور پر متاثرہ شخص کو زیادہ سے زیادہ 21 روز تک دوسرے لوگوں سے میل جول نہیں رکھی چاہیے ورنہ وائرس منتقل ہوسکتاہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق منکی پاکس کی علامات بھی چیچک سے ملتی جلتی ہیں البتہ اس کی شدت چیچک سے کم ہوتی ہے۔عام طور پر اس کی علامات ایک سے دو ہفتوں کے درمیان سامنے آتی ہیں۔متاثرہ شخص میں پہلے سر درد، بخار، سانس پھولنے کی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور پھر چیچک کی طرح جسم میں دانے نمودار ہوجاتے ہیں۔مرض کی شدت کے اعتبار سے ان دانوں کے حجم میں فرق ہوسکتا ہے۔ ان دانوں میں پَس بھی موجود ہوتا ہے اور مریض کو بے چینی اور خارش بھی محسوس ہوسکتی ہے۔مرض شدت اختیار کرجائے تو منکی پاکس جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق مغربی افریقا میں پائے جانے والے منکی پاکس وائرس میں شرح اموات 3.6 فیصد ہے جبکہ کانگو طاس ریجن کے منکی پاکس وائرس میں شرح اموات 10.6
فیصد ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق کسی بھی شخص میں منکی پاکس وائرس ہے یا نہیں اسے جانچنے کیلئے مؤثر ترین طریقہ پولی میریس چین ری ایکشن ٹیسٹ ہے۔ اس مقصد کیلئے متاثرہ شخص کے جسم میں ابھرے دانوں میں بھرے مواد کو بطور نمومہ استعمال کیا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے منکی پاکس سے بچاؤ کے لیے حفاظتی ویکسین لگوانا ضروری ہے ،وائرس سے بچاؤ کےلیے کسی جنگلی جانور سے رابطے کی صورت میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں، ماسک اور دستانے استعمال کریں اور صفائی کا خاص خیال رکھیں۔اگر آپ کے حلقہ احباب میں کوئی شخص منکی پاکس کا شکار ہوگیا ہے تو کوشش کریں کہ اس سے میل جول نہ رکھیں، ایسا ممکن نہ ہو تو ماسک اور دستانے کا استعمال کریں اور ملاقات کے بعد اچھی طرح ہاتھ اور چہرے کو دھوئیں۔منکی پاکس سے متاثرہ شخص کیلئے ضروری ہے کہ وہ خود کو آئسولیٹ کرلے۔












