اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان پر قرضوں کا بوجھ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ مجموعی قرضے اور واجبات 97 ہزار 307 ارب روپے سے تجاوز کر گئے۔ پہلی بار پاکستان کے قرضے 97 ہزار ارب روپے کی حد عبور کر گئے ، بڑھتے قرضے نہ صرف معیشت بلکہ حکومت کے لیے بھی ایک بڑا مالیاتی چیلنج بن گئے ۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 تک پاکستان پر مجموعی قرضوں اور واجبات کا حجم 97 ہزار 307 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔ صرف ایک سال کے دوران قرضوں میں 7 ہزار 533 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔۔۔ گزشتہ سال مارچ 2025 تک قرضوں اور واجبات کا مجموعی حجم 89 ہزار 774 ارب روپے تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق مقامی قرضہ بڑھ کر 57 ہزار 566 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔۔۔ گزشتہ برس یہی مقامی قرضہ 51 ہزار 518 ارب روپے تھا۔۔۔ یعنی ایک سال کے دوران اندرونی قرضوں میں 6 ہزار ارب روپے سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جانب پاکستان کا بیرونی قرضہ بھی 35 ہزار ارب روپے کی حد عبور کر گیا ہے۔۔۔ ماہرین معاشیات کے مطابق روپے کی قدر میں کمی، بلند شرح سود، مالی خسارہ اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے نئے قرض لینے کا سلسلہ اس اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ قرضوں میں مسلسل اضافہ حکومت پر مالی دباؤ بڑھا رہا ہے۔۔۔ ملک کی آمدن کا بڑا حصہ قرضوں پر سود اور اصل رقم کی ادائیگی میں خرچ ہو رہا ہے، جس کے باعث ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت اور عوامی فلاح کے شعبوں کے لیے وسائل محدود ہوتے جا رہے ہیں ۔
ماہرین کے مطابق اگر معاشی اصلاحات، برآمدات میں اضافہ اور ٹیکس نظام بہتر نہ بنایا گیا تو آئندہ برسوں میں قرضوں کا بوجھ مزید بڑھ سکتا ہے۔۔اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اب صرف قرض لینے کے بجائے پیداواری معیشت، صنعتی ترقی اور برآمدات پر توجہ دینا ہوگی تاکہ قرضوں کے دائرے سے نکل کر پائیدار معاشی استحکام حاصل کیا جا سکے۔












