
از :سہیل شہریار
پاکستان نے تیل و گیس کی تلاش کےلئے اپنی سمندری حدود کو دو دہائیوں بعدایک مرتبہ پھر کھول دیا ہے۔ جس کے لئے 2025کی بولی کو حتمی شکل دیتے ہوئے سندھ اور مکران کے ساحلوں سے ملحقہ54600مربع کلومیٹرپر محیط 23بلاکس کے لئے پیداوار میں حصہ داری کے معاہدے (پی ایس ایز) اور تیل و گیس کی تلاش کے لائسنسز(ای ایلز) پر دستخط کر دئیے گئے ہیں۔
وزارت پیٹرولیم کی جاری کردہ معلومات کے مطابق نئے ایوارہ شدہ بلاکس سندھ اور مکران کے ساحلی نشیبوں میں واقع ہیں جو سندھ اور بلوچستان کے علاقائی پانیوں سے ملحق ہیں۔ بولی کے اسی راؤنڈ کے تحت اس سے قبل 2 دسمبر 2025 کودیئے گئے دو آف شور بلاکس آف شور ڈیپ-سی اور آف شور ڈیپ-ایف ماری انرجی لمیٹڈ، ٹرکش پیٹرولیم اوورسیز کمپنی (TPOC) اور فاطمہ پیٹرولیم کمپنی لمیٹڈ کے ساتھ معاہدہ وزیراعظم کے دفتر میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران عمل میں لایا گیا تھا۔چنانچہ 21بلاکس کے نئے معاہدوں سے آف شور بولی راؤنڈ 2025 کے پورٹ فولیو کے لیے معاہدوںکا فریم ورک اب مکمل ہو گیا ہے۔
تیل و گیس کی تلاش کے یہ معاہدے پاکستان کی سمندر کے کنارے اپ اسٹریم کی صلاحیت پر سرمایہ کاروں کے مضبوط اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ سرحد 282,623 مربع کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔ جہاں آزادی کے بعد سے اب تک تیل و گیس کی تلاش کے صرف 18 کنویں کھودے گئے ہیں۔
ماڑی انرجی لمیٹڈ 23 آف شور بلاکس میں سب سے زیادہ فعال شرکت کنندہ کے طور پرسامنے آئی ہے۔جو 18 بلاکس آپریٹر کے طور پر اور 5 بلاکس میں دیگر ایکسپلوریشن اور پروڈکشن کمپنیوں کے ساتھ شراکت دار کے طور پر شامل ہے۔اسی کے ساتھ آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) میں سے ہر ایک کو تیل و گیس کی تلاش کے آٹھ آٹھ بلاکس سے نوازا گیا ہے جن میں آپریٹر کے طور پرصرف دوبلاکس شامل ہیں۔پرائم گلوبل انرجی لمیٹڈ کو آپریٹر کے طور پر ایک بلاک دیا گیا ہے۔ اوریونائیٹڈ انرجی پاکستان لمیٹڈ (یو ای پی)، اورینٹ پیٹرولیم انکارپوریشن (او پی آئی) اور دیگر نے مشترکہ حصےداری کے تحت ایک بلاک حاصل کیا ہے۔
ایوارڈ کئے گئے 23 بلاکس میں مجموعی طور پر ابتدائی تین سالہ لائسنس کی مدت کے پہلے مرحلے کے دوران تقریباً8کروڑ 20لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ البتہ تلاش کی سرگرمیاںدوسرے مرحلےمیں کنوؤں کی ڈرلنگ تک بڑھیں تو کل سرمایہ کاری تقریباً 1 ارب ڈالر تک بڑھنے کا امکان ہے۔
وزارت پیٹرولیم کےمطابق پہلے مرحلےکی سرگرمیوں میں وسیع ارضیاتی اور جیو فزیکل اسٹڈیز، زلزلہ سے متعلق ڈیٹا کا حصول، پروسیسنگ اور تشریح کرنا شامل ہے ۔ جبکہ پہلے مرحلے کے حوصلہ افزا نتائج سے مشروطدوسرے مرحلےمیں ممکنہ ساحلی علاقوں میںتیل و گیس کی تلاش کے کنوؤں کی کھدائی شامل ہوگی۔
پیٹرولیم ڈویژن نے کہا ہےکہ وہ سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے اگلے مرحلے میں سرکردہ بین الاقوامی تیل کمپنیوں کو شامل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔اور اس ضمن میں کئی عالمی توانائی کمپنیاں پہلے ہی دستیاب آف شور ڈیٹا کا جائزہ لے رہی ہیں۔






