اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) آئی ایم ایف اور پاکستان میں بجٹ مذاکرات بے نتیجہ رہے، تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس ریلیف پر اتفاق نہ کیا گیا۔
حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف دینے کی تجویز دی ، آئی ایم ایف نے ریونیو تخمینوں پر سوال اٹھا دیئے۔ ایکسپورٹرز کیلئے اضافی ایک فیصد ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی گئی ،ایف بی آر نے آئندہ مالی سال کیلئے 15 ہزار 264 ارب روپے ٹیکس ہدف مقرر کیا ،آئی ایم ایف نے مزید ٹیکس اقدامات مانگ لیے، حکومت نے آئی ایم ایف کو نئے ٹیکس لگانے کی یقین دہانی کر دی۔
ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں ایف بی آر کو 683 ارب روپے شارٹ فال کا سامنا ہے۔۔ تنخواہ دار طبقے نے جولائی تا اپریل 470 ارب روپے انکم ٹیکس جمع کرایا،نجی شعبے کے ملازمین سے 209 ارب، کارپوریٹ ملازمین سے 150 ارب روپے ٹیکس جمع ہوا ۔ آئندہ مالی سال میں ایک کھرب روپے سبسڈی رکھنے کا امکان ہے۔ پاور سیکٹر کیلئے 830 ارب مختص کیے جانے کی تجویزہے۔ وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔












