
از: سہیل شہریار
قیام پاکستان کے بعد سے قائم پاک ۔ امریکہ تعلقات نے 78برسوں کے دوران بہت سے نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ ہاں یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ دونوں ملکوں کے درمیان قابل اعتماد دوستی کبھی نہیں رہی۔ خصوصاً ہر مشکل وقت میںپاکستان کو استعمال کرکے آسانی میں چھوڑ دینا امریکہ کا وطیرہ رہا ہے ۔اور اس میں امریکہ میں انتہائی با اثر پاکستان مخالف ہندو اور صیہونی لابی کا ہاتھ ہے۔
پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کا آغاز 1947 میں ملک کی آزادی کے ساتھ ہوا۔پاکستان نے سرد جنگ کے دوران واشنگٹن کے ساتھ اتحاد کیا۔ تو اسکے نتیجے میں وہ سیٹو اور سینٹو جیسے علاقائی دفاعی اتحادوں میں امریکہ کا ساتھی بنا۔ افغانستان پر سوویت یونین کے حملے کے بعد پاکستان نے وہاں امریکی مقاصد کی حمایت کی۔یہ پاکستان ہی تھا جس نے روس کی ناراضگی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے امریکی مفادات کے تحفظ کے لئےآخری حد تک گیا۔ جس نے بالآخر ماسکو کو افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنے پر مجبور کیا۔
مگر ہوا یہ کہ سوویت یونین کی شکست کے بعد امریکہ اپنے مغربی اتحادیوں سمیت افغانستان کو لاوارث چھوڑ کر چلتا بنا ۔ جبکہ پاکستان کو امریکہ کی مدد کرنے کا انعام کلاشنکوف کلچر اور دہشت گردی کی آگ کی شکل میں ملا۔ اور جب پاکستان نے طالبان کی صورت میں افغانستان میں استحکام کی صورت نکالی توامریکی دوستوں نے ہی دہشتگردی کے شکار پاکستان پر دہشتگردوں کی مدد کا الزام لگا کر معاشی ودیگر پابندیوں کی نذر کر دیا۔
چند برس بعد نیویارک میں نائن الیون کا اندوھناک واقعہ رونما ہو گیا ۔ اور امریکہ نے اپنے مغربی اتحادیوں کے ہمراہ دنیا بھر میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا۔ یوں جنگ کی یہ آگ ایک مرتبہ پھر پاکستان کی مغربی سرحد پر افغانستان پہنچ گئی تو امریکہ کو اپنا بھولا ہوا دوست یاد آیا۔اور پاکستان اپنے علاقائی مفادات کو پس پشت ڈال کر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نہ صرف فرنٹ لائن اسٹیٹ بن گیا۔ ساتھ امریکہ اور نیٹو کا تزویراتی شراکت دار بھی قرار پایا۔
تاہم یہ رومانس بھی دیرپا ثابت نہیں ہوا۔ اور کابل میں طالبان کی جگہ کٹھ پیلی حکومت کو بٹھانے اور اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے ساتھ ہی امریکی ا سٹریٹجک کمیونٹی کے اندر بہت سے لوگوں نے پاکستان کے ایک قابل اعتماد سیکورٹی پارٹنر کے طور پر سوال اٹھانا شروع کر دئیے۔ جبکہ پاکستان کے دشمن بھارت کو افغانستان میں کھل کھیلنے کا لائسنس دے دیا۔تو پاکستان نے بھی بتدریج راہیں جدا کرنے کی تیاری شروع کر دی۔اگست 2021 میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد تزویراتی شراکت داری مزید کم ہو گئی ۔جبکہ سابق صدر جوبائیڈن کے چار سالہ اقتدار میں پاک ۔امریکہ تعلقات نچلی ترین سطح پر آ گئے۔
مگر صدر ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد اپنے امریکی کانگریس میں پہلے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہنے کے ساتھ امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا کے دوران کابل ائر پورٹ کے قریب ایبی گیٹ بم دھماکے کے مبینہ ملزم کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کرنے پر پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا۔جس سے دونوں ملکوں کے تعلقات نے پھر سے ایک خو ش گوا ر موڑ لے لیا۔ مئی کے معرکہ حق میں جنگ بندی کی امریکی صدر کی تجویز ماننے اور بعد ازاں ٹرمپ کی دعوت پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے امریکہ کے دورے نے ان تعلقات میں پھر سے جان ڈال دی ہے۔
اس دورے سے پانچ دن پہلے10 جون کو امریکی سینٹرل کمانڈسینٹ کام کے سربراہ جنرل مائیکل ای کریلا نے واشنگٹن میں ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے اپنی گواہی میں تفصیل سے بتایا کہ کس طرح پاکستان کےتعاون کی وجہ سے ایبی گیٹ کے مشتبہ بمبار کو پکڑا گیا۔اس موقعہ پر جنرل کریلا نے کہا کہ پاکستان اس وقت انسداد دہشت گردی کی ایک فعال لڑائی میںہے۔ اور وہ انسداد دہشت گردی کی دنیا میں ایک غیر معمولی شراکت دار رہا ہے۔ مگر یہ وہ حقیقت ہے جسے امریکہ میں اعلیٰ سطح پر کم ہی تسلیم کیا جاتا ہے۔
https://www.youtube.com/watch?v=DLJGhOTK1aE&t=10s
امریکی تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں ملکوں کے مابین باہمی فائدے کے کئی اقدامات سامنے آنے کی توقع ہے۔ پاکستان امریکہ کے ساتھ بغیر کسی ٹیرف کے تجارتی معاہدہ کرنے کے لئے تیار ہے۔ پاکستان نے امریکہ کو نایاب زمینی معدنیات کی پیشکش کی ہے جو کہ دفاع، روبوٹکس اور الیکٹرانکس جیسی صنعتوں کے لیے اہم ہیں۔پاکستان نے حال ہی میں کرپٹو کونسل بھی بنائی ہے اور سرمایہ کاری اور شراکت داری کو راغب کرنے کے لیے امریکی حکام سے بات چیت کی ہے۔
تاہم تجزیہ کار ایک بار پھر شروع ہونے والے پاک۔ امریکہ رومانس کے لمبے عرصے تک چلنے کے بارے میںزیادہ پر امید نہیں ہیں۔ کیونکہ بظاہر اب پاکستان کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی ہر مشکل کے ساتھی چین کو چھوڑ کر امریکہ کے ساتھ چلا جائے ۔ چنانچہ یہ سچ ہے کہ پاکستان ایک بار پھر ایک بڑے اسٹریٹجک انتخاب کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اور یہی انتخاب پاک۔ امریکہ تعلقات کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔












