جمعہ , 6 نومبر , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

78برسوں سے پاک امریکہ تعلقات نشیب و فراز کا شکار

1 سال پہلے
A A
78برسوں سے پاک امریکہ تعلقات نشیب و فراز کا شکار
Share on Facebookwhatsapp

از: سہیل شہریار

قیام پاکستان کے بعد سے قائم پاک ۔ امریکہ تعلقات نے 78برسوں کے دوران بہت سے نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ ہاں یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ دونوں ملکوں کے درمیان قابل اعتماد دوستی کبھی نہیں رہی۔ خصوصاً ہر مشکل وقت میںپاکستان کو استعمال کرکے آسانی میں چھوڑ دینا امریکہ کا وطیرہ رہا ہے ۔اور اس میں امریکہ میں انتہائی با اثر پاکستان مخالف ہندو اور صیہونی لابی کا ہاتھ ہے۔
پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کا آغاز 1947 میں ملک کی آزادی کے ساتھ ہوا۔پاکستان نے سرد جنگ کے دوران واشنگٹن کے ساتھ اتحاد کیا۔ تو اسکے نتیجے میں وہ سیٹو اور سینٹو جیسے علاقائی دفاعی اتحادوں میں امریکہ کا ساتھی بنا۔ افغانستان پر سوویت یونین کے حملے کے بعد پاکستان نے وہاں امریکی مقاصد کی حمایت کی۔یہ پاکستان ہی تھا جس نے روس کی ناراضگی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے امریکی مفادات کے تحفظ کے لئےآخری حد تک گیا۔ جس نے بالآخر ماسکو کو افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنے پر مجبور کیا۔
مگر ہوا یہ کہ سوویت یونین کی شکست کے بعد امریکہ اپنے مغربی اتحادیوں سمیت افغانستان کو لاوارث چھوڑ کر چلتا بنا ۔ جبکہ پاکستان کو امریکہ کی مدد کرنے کا انعام کلاشنکوف کلچر اور دہشت گردی کی آگ کی شکل میں ملا۔ اور جب پاکستان نے طالبان کی صورت میں افغانستان میں استحکام کی صورت نکالی توامریکی دوستوں نے ہی دہشتگردی کے شکار پاکستان پر دہشتگردوں کی مدد کا الزام لگا کر معاشی ودیگر پابندیوں کی نذر کر دیا۔
چند برس بعد نیویارک میں نائن الیون کا اندوھناک واقعہ رونما ہو گیا ۔ اور امریکہ نے اپنے مغربی اتحادیوں کے ہمراہ دنیا بھر میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا۔ یوں جنگ کی یہ آگ ایک مرتبہ پھر پاکستان کی مغربی سرحد پر افغانستان پہنچ گئی تو امریکہ کو اپنا بھولا ہوا دوست یاد آیا۔اور پاکستان اپنے علاقائی مفادات کو پس پشت ڈال کر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نہ صرف فرنٹ لائن اسٹیٹ بن گیا۔ ساتھ امریکہ اور نیٹو کا تزویراتی شراکت دار بھی قرار پایا۔
تاہم یہ رومانس بھی دیرپا ثابت نہیں ہوا۔ اور کابل میں طالبان کی جگہ کٹھ پیلی حکومت کو بٹھانے اور اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے ساتھ ہی امریکی ا سٹریٹجک کمیونٹی کے اندر بہت سے لوگوں نے پاکستان کے ایک قابل اعتماد سیکورٹی پارٹنر کے طور پر سوال اٹھانا شروع کر دئیے۔ جبکہ پاکستان کے دشمن بھارت کو افغانستان میں کھل کھیلنے کا لائسنس دے دیا۔تو پاکستان نے بھی بتدریج راہیں جدا کرنے کی تیاری شروع کر دی۔اگست 2021 میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد تزویراتی شراکت داری مزید کم ہو گئی ۔جبکہ سابق صدر جوبائیڈن کے چار سالہ اقتدار میں پاک ۔امریکہ تعلقات نچلی ترین سطح پر آ گئے۔
مگر صدر ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد اپنے امریکی کانگریس میں پہلے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہنے کے ساتھ امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا کے دوران کابل ائر پورٹ کے قریب ایبی گیٹ بم دھماکے کے مبینہ ملزم کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کرنے پر پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا۔جس سے دونوں ملکوں کے تعلقات نے پھر سے ایک خو ش گوا ر موڑ لے لیا۔ مئی کے معرکہ حق میں جنگ بندی کی امریکی صدر کی تجویز ماننے اور بعد ازاں ٹرمپ کی دعوت پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے امریکہ کے دورے نے ان تعلقات میں پھر سے جان ڈال دی ہے۔
اس دورے سے پانچ دن پہلے10 جون کو امریکی سینٹرل کمانڈسینٹ کام کے سربراہ جنرل مائیکل ای کریلا نے واشنگٹن میں ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے اپنی گواہی میں تفصیل سے بتایا کہ کس طرح پاکستان کےتعاون کی وجہ سے ایبی گیٹ کے مشتبہ بمبار کو پکڑا گیا۔اس موقعہ پر جنرل کریلا نے کہا کہ پاکستان اس وقت انسداد دہشت گردی کی ایک فعال لڑائی میںہے۔ اور وہ انسداد دہشت گردی کی دنیا میں ایک غیر معمولی شراکت دار رہا ہے۔ مگر یہ وہ حقیقت ہے جسے امریکہ میں اعلیٰ سطح پر کم ہی تسلیم کیا جاتا ہے۔

https://www.youtube.com/watch?v=DLJGhOTK1aE&t=10s
امریکی تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں ملکوں کے مابین باہمی فائدے کے کئی اقدامات سامنے آنے کی توقع ہے۔ پاکستان امریکہ کے ساتھ بغیر کسی ٹیرف کے تجارتی معاہدہ کرنے کے لئے تیار ہے۔ پاکستان نے امریکہ کو نایاب زمینی معدنیات کی پیشکش کی ہے جو کہ دفاع، روبوٹکس اور الیکٹرانکس جیسی صنعتوں کے لیے اہم ہیں۔پاکستان نے حال ہی میں کرپٹو کونسل بھی بنائی ہے اور سرمایہ کاری اور شراکت داری کو راغب کرنے کے لیے امریکی حکام سے بات چیت کی ہے۔
تاہم تجزیہ کار ایک بار پھر شروع ہونے والے پاک۔ امریکہ رومانس کے لمبے عرصے تک چلنے کے بارے میںزیادہ پر امید نہیں ہیں۔ کیونکہ بظاہر اب پاکستان کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی ہر مشکل کے ساتھی چین کو چھوڑ کر امریکہ کے ساتھ چلا جائے ۔ چنانچہ یہ سچ ہے کہ پاکستان ایک بار پھر ایک بڑے اسٹریٹجک انتخاب کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اور یہی انتخاب پاک۔ امریکہ تعلقات کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔

موضوعات : #america#economy#pakistan#relation
ShareSend

متعلقہ خبریں

Agreement reached between Pakistan and China to activate a 'Green Channel' at the Sust-Khunjerab border; this will facilitate agricultural trade.
پاکستان

پاکستان اور چین کے درمیان سوست خنجراب سرحد پر گرین چینل فعال کرنے کا معاہدہ، زرعی تجارت میں آسانی ہوگی

30 اکتوبر , 2026
Lahore declared the world's most polluted city for the fourth consecutive day
پاکستان

لاہور مسلسل چوتھے روز دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار

22 اکتوبر , 2026
Man who threw vinegar at Ilhan Omar sentenced to 14 months in prison
تازہ ترین

الہان عمر پر سرکہ پھینکنے والے شخص کو 14 ماہ قید کی سزا

18 ستمبر , 2026
US's one-megawatt nuclear battery enters testing phase
تازہ ترین

امریکا کی ایک میگاواٹ نیوکلیئر بیٹری تجربات کے مرحلے میں داخل

29 اگست , 2026
Deadlock in US-Canada talks; fear of tariff hikes on Canadian vehicles.
تازہ ترین

امریکا ،کینیڈا مذاکرات میں ڈیڈ لاک، کینیڈین گاڑیوں پر محصولات میں اضافے کا خدشہ

27 اگست , 2026
Who holds the largest share of U.S. debt
تازہ ترین

امریکا کا سب سے زیادہ قرض کس کے پاس؟

27 اگست , 2026
اگلی خبر
سندھ طاس معاہدہ تنازعہ، حکومت کا چناب ڈیم بنانے کا منصوبہ

سندھ طاس معاہدہ تنازعہ، حکومت کا چناب ڈیم بنانے کا منصوبہ

یہ بھی پڑھیں

Major political blow to Netanyahu in Israel; Gadi Eizenkot secures support of 67 members.

اسرائیل میں نیتن یاہو کو بڑا سیاسی دھچکا، گاڈی آئزنکوٹ کو 67 ارکان کی حمایت حاصل

6 نومبر , 2026
Fake Court Fee Stamp Scandal Chief Minister Maryam Nawaz pays tribute to the Chief Justice of the Lahore High Court.

جعلی کورٹ فیس ٹکٹ اسکینڈل:وزیراعلیٰ مریم نواز کا چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو خراجِ تحسین

6 نومبر , 2026
A major solar energy revolution in Turkey, one of Europe's largest solar farms operational

ترکیہ میں شمسی توانائی کا بڑا انقلاب، یورپ کے بڑے سولر فارمز میں سے ایک فعال

6 نومبر , 2026
The Global Threat of Online Fraud Citizens Lost $148 Billion in a Single Year.

آن لائن فراڈ کا عالمی خطرہ، امریکی شہری ایک سال میں 148 ارب ڈالر سے زائد لٹا بیٹھے

6 نومبر , 2026
Boeing and Saab’s T-7A training aircraft has reached a significant milestone.

بوئنگ اور ساب کے ٹی 7 اے تربیتی طیارے نے اہم سنگِ میل عبور کرلیا

6 نومبر , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔