
از : سہیل شہریار
سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان گزشتہ ماہ طے پانے والا تزویراتی دفاعی معاہدہ دونوں برادر اسلامی ملکوں کے درمیان دفاع کے شعبے میں باہمی تعاون کی 60سالہ تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہے
سعودی عرب پاکستان دفاعی تعاون کی تشکیل 1960 کی دہائی میں شاہ فیصل اور صدر ایوب خان کی قیادت میں ہوئی۔تب پاکستان نے سعودی شاہی فضائیہ کو تربیت اور مشاورتی مدد فراہم کرنےسےدفاعی تعلق کی پہلی باضابطہ بنیاد رکھی جو بتدریج وسیع ہوتا گیا۔ 1967 میں پہلا باضابطہ دفاعی تعاون معاہدہ اسلام آباد میں وزیر دفاع شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز کے دستخط سے ہوا، جس نے سعودی عرب کے دفاع میں پاکستان کے تسلسل کے ساتھ کردار کا آغاز کیا۔
https://www.youtube.com/watch?v=gLkemmtEsRg&t=13s
پھر 1970 کی دہائی میں اس معاہدے کو فوجی اہلکاروں اور مہارت کے بڑے پیمانے پر تبادلوں میں ڈھالا گیا۔ اور ہزاروں سعودی کیڈٹس نے پاکستانی افواج کے تربیتی اداروں میں تربیت حاصل کی۔ 1970 کی دہائی کے اوائل تک یہ تعاون صرف تربیت تک محدود نہیں رہا۔ پاکستانی فوج نے یمن کی سرحد کے ساتھ سعودی دفاعی قلعہ بندیاں کیں۔جاس نے ایک ایسے سعودی عسکری ڈھانچے کی بنیاد رکھی جو پاکستانی تجربے اور پیشہ ورانہ مہارت پر گہرے طور پر انحصار کرتا تھا۔
1980 کی دہائی میں دوطرفہ دفاعی تعلقات کے حجم اور دائرہ کار میں بڑی توسیع آئی۔ خطے کی بے چینی، خصوصاً سوویت یونین کی افغانستان پر چڑھائی اور ایران عراق جنگ نے ریاض اور اسلام آباد کو 1982 کے معاہدے کے ذریعے اپنے فوجی تعاون کو منظم شکل دینے پر آمادہ کیا۔
اس معاہدےنے سعودی پاکستانی آرمڈ فورسز آرگنائزیشنکو وجود بخشا اور سعودی عرب میں پاکستانی افواج کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کا موقع فراہم کیا۔ اپنے عروج پر 20 ہزار سے زائد پاکستانی فوج تبوک اور مشرقی صوبے جیسے حساس علاقوں میں تعینات رہی۔ جہاں وہ تربیتی اور آپریشنل دونوں کردار ادا کرتی رہی اور ساتھ ہی سعودی عرب کو کسی بھی خطرے کے خلاف یقین دہانی حاصل رہی۔
یہ دفاعی تعاون خلیجی جنگ1990-91تک مستحکم رہا۔ جب پاکستان نے ریاض کی درخواست پر 11 ہزار سے زائد فوجی سعودی عرب بھیجے۔ جنہیں 1982 کے پروٹوکول کے مطابق دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تاکہ سرحدوں اور مقدس مقامات کی حفاظت کی جا سکے۔
1990 اور 2000 کی دہائیوں میں تعاون کا مرکز انسداد دہشت گردی اور انٹیلی جنس تبادلے کی طرف منتقل ہو گیا۔ خاص طور پر القاعدہ کے خلاف جنگ اور افغانستان میں عدم استحکام سے نمٹنے میں۔ 11 خصوصاً نائن الیون کے بعد دونوں ممالک کے مشترکہ سکیورٹی خدشات نےعسکری اور انٹیلی جنس تعاون جاری رکھنے کی ضرورت کو مزید مستحکم کیا۔
گذشتہ دہائی میں سعودی پاکستان دفاعی تعلقات میں مزید تنوع آیا تاکہ انہیں خطے اور دنیا کی نئی حقیقتوں کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے 2017 میں سعودی قیادت میں قائم اسلامی عسکری اتحاد برائے انسداد دہشت گردی کی کمان سنبھالی جس سے اجتماعی سکیورٹی میں پاکستان کی قیادت پر ریاض کے اعتماد کی عکاسی ہوتی ہے۔ اس کے بعد سے مشترکہ فوجی، بحری اور فضائی مشقیں معمول کا حصہ بن گئی ہیں، جن کے ساتھ دفاعی پیداوار اور ٹیکنالوجی میں بڑھتا ہوا تعاون بھی شامل ہے۔
یہ تاریخی تسلسل واضح کرتا ہے کہ نیا معاہدہ اچانک نہیں ہوا بلکہ دہائیوں پر محیط بتدریج، پختہ تعاون کا حاصل ہے جو باہمی اعتماد اور مشترکہ سکیورٹی ضروریات پر مبنی ہے۔












