
از: سہیل شہریار
رواں ماہ کے آغازپر چین کی ثالثی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان اورمچی میں ہونے والے مزاکرات کوفریقین اور ثالث ملک کی جانب سے خوش آئند اور مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ مگر پاکستان میں دہشتگری کے واقعات تا حال جاری ہیں اور صرف اپریل کے مہینے میں افغانستان میں موجود فتنہ الخوارج اور فتنہ الہند کی جانب سے خیبر پختونجوا اور بلوچستان میں نصف درجن کاروائیاں کی جا چکی ہیں۔
حکومت اور افواج پاکستان یہ واضح کر چکے ہیں کہ جب تک ان مذموم کاروائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور افغان طالبا ن بین الاقوامی سطح پر دہشتگرد قرار دی گئی ان بھارت کی سرپرستی میں کام کرنے والیدہشتگرد تنظیموں کے خلاف مؤثر اور قابل تصدیق کاروائی نہیں کرتے تو پاکستان بھی دہشتگردوں کے خلاف افغانستان کے اندر آپریشن غضب للحق جاری رکھے گا۔البتہ چینی دوستوںکی ایما پروقتی طور پر افغانستان کے اندر کاروائیوں کا سلسلہ روک دیا گیا ہے۔تہم افغانستان سے مثبت جواب نہ آیا تو آپریشن غضب للحق کو دوبارہ پوری شدت سے شروع کر دیا جائے گا۔
قبل ازیں چین کی ثالثی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان اپریل کے شروع میں افسروں کی سطح کے سات روزہ تفصیلی مزاکرات کا اورمچی میں انعقاد ہوا۔ان مزاکرات کے اختتام پر چین کی وزارتِ خارجہ کی طرف سے ایک پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ افغانستان اور پاکستان گذشتہ سال اکتوبر میں شروع ہونے والی کشیدگی کا جامع حل تلاش کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔ چینی وزارت خارجہ نے دہشت گردی کو دونوں ممالک کے تعلقات میں بنیادی مسئلہ قرار دیا ہے۔ ۔ عبوری افغان حکومت کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا کہ مزاکرات مثبت رہے ۔فریقین کے درمیان چند امور پر اختلافات ہیں مگر یہ بات چیت جاری رکھنے کی راہ میں حائل نہیں ہونگے۔ جبکہ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا تھاکہ پاکستان مسائل کے حل کے لئے مزاکرات پر یقین رکھتا ہے اور اسی جذبے کے تحت ہمارے وفد نے اورمچی مزاکرات میں حصہ لیا۔ تاہم پاکستان اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے کہ افغان طالبان اپنے ملک سے پاکستان کے اندر دہشتگردی کے خاتمے کو یقینی بنائیں۔
مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بھارت کی پشت پناہی سے پاکستان میں امن کی دشمن کاروائیوں کا سلسلہ تاحال نہیں تھم سکا۔ اور 8اپریل کے بعد سے اب تک کے پی کے اور بلوچستان میں دہشتگردی کے چار واقعات رونما ہو چکے ہیں۔جن میں تازہ واقعہ میں انگور اڈہ زلول خیل میں افغان سرحد کے پار سے فائرنگ میں سول آبدی کو نشانہ بنایا گیا۔ اسکے جواب میں پاک فوج کی بروقت کارروائی کے دوران افغان فوج کی متعدد پوسٹیں تباہ کر دی گئیں۔
اگرچہ اپریل کے شروع میں ہونے والےاورمچی مزاکرات میںتینوں ممالک نےان کو اگلے مرحلے میں جاری رکھنے اور اس سلسلے میں رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔ مگر افغان طالبان کے طرز عمل سے لگتا ہے کہ وہ مزاکرات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔
اس حوالے سے دفاعی تجزیہ کاروں کی آرأمختلف ہیں ۔ایک گروپ کا خیال ہے کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموںپر افغان طالبان کا اثر و رسوخ اب پہلے جیسا نہیں ۔ اسی لئے طالبان کی عبوری حکومت کے وزیر خارجہ سمیت کئی وزرأ یہ کہہ چکے ہیں کہ کابل کی سیکورٹی کی ضمانت نہیں دے سکتے تو سرحد پار پشاور کی کیسے دے دیں۔دوسرے گروپ کی رائے ہے کہ افغان طالبان بھارتی ایجنڈے پر کام کررہے ہیں جو ہمیشہ سے پاکستان میں امن کے درپے رہا ہے۔چنانچہ پاکستان کو پوری قوت کے ساتھ آپریشن غضب للحق کو آگے بڑھانا چاہیے۔جبکہ ماہرین کے تیسرے گروپ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو چین کی ثالثی کا احترام کرتے ہوئے بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانےپر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔تاہم شر انگیزی کے جواب میں پاکستان کا دفاع کا حق یقیناً محفوظ ہے۔
اپریل 2024 سے اب تک پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان سب سے زیادہ متاثرہ صوبے رہے ہیں۔ مختلف سیکورٹی اداروں اور میڈیا کی رپورٹس کے مطابق افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعدپاکستان کی نمک خواری کے جواب میں افغانستان سے پاکستان کے اندر فتنہ الخوارج کے حملوں میں اضافہ ہوا ۔ 2024 میں 1,272 پرتشدد واقعات میں 2,555 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔2025 میں خیبر پختونخوا میں 948 سے زائد دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔جبکہ سیکیورٹی فورسز نے اس دوران 21 ہزار سے زائد آپریشنز کیے۔











