
از: سہیل شہریار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق ہو جانے کے اعلان کے بعدوائٹ ہاؤس نے "امن کے صدر” کی تصویر جاری کر دی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ اس برس یہ انعام حاصل کر پائیں گے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر وائٹ ہاؤس کے سرکاری اکاؤنٹ سے ٹرمپ کی ایک تصویر جاری کی گئی، جس پر عبارت درج تھی "امن کے صدر” … یہ ان کے اُس کردار کی علامت تھی جو انھوں نے کئی جنگیں رکوانے میں ادا کیا۔
https://www.youtube.com/watch?v=FAdY1cOQdow
اسی دوران ٹرمپ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ انھیں "یقین ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم ہو جائے گا”۔ انھوں نے کہا کہ جو کچھ حاصل کیا گیا ہے، وہ صرف غزہ تک محدود نہیں بلکہ "پورے مشرقِ وسطیٰ میں امن” کی جانب پیش رفت ہے۔
https://www.youtube.com/shorts/S_UnN5PaLws
یاد رہے کہ ٹرمپ نے حال ہی میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ وہ "اس سال کے آغاز سے اب تکسات جنگوں کا خاتمہ کر چکے ہیں”، اور کہا تھا کہ انھیں اس کے اعتراف میں "نوبل امن انعام سے نوازا جانا چاہیے۔”
اب تک چار امریکی صدور نے امن کا نوبل انعام حاصل کیا ہے جن میںتھیوڈور روزویلٹ کو 1906 میں روس-جاپانی جنگ میں ثالثی کرنے پر۔ 1919 میں ووڈرو ولسن کو لیگ آف نیشنز کی بنیاد رکھنے پر پھر جمی کارٹر کو 2002 میں صدارتی دور کے بعد کے انسانی اور سفارتی کام کے لیے۔ جبکہ باراک اوباما نے 2009 میں اپنی ابتدائی مدت کی سفارت کاری اور اتحاد سازی کی کوششوں کے لیے امن کا نوبل انعام حاصل کیا ہے۔
انعام کے لئے نامزدگیاں ہر سال جنوری میں مکمل ہوتی ہیں جبکہ سفارشات 26جولائی تک بھیجی جا سکتی ہیں۔اس برس ڈونلڈ ٹرمپ سمیت تین ہزار سے زائد افراد کی نامزدگی کی گئی ہے ۔ اور ناروے کی پارلیمنٹ کی منتخب کردہ پانچ رکنی نوبل امن انعام کمیٹی جیتنے والے یا والوں کے نام کا اعلان کل 10اکتوبر کو کرے گی۔ روایت کے مطابق جیتنے والا نام پہلے ہی طے کیا جا چکاہوگا ۔ اور اب اس میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔












