نئی دہلی ( پاک ترک نیوز) ندا خان کیس مودی سرکار کی تعلیم یافتہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کہانی ہے ۔
ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز کے بی پی او یونٹ میں ایچ آر مینیجر ندا خان پر مسلمان ورکرز کے ساتھ مل کر جنسی ہراسانی، مذہب تبدیلی کے الزامات لگائے گئے۔
ندا خان پر ہندو خواتین کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کرنے کاجھوٹا الزام لگایا گیا ۔
بھارتی میڈیا نے ندا خان کو "دہشت گرد نیٹ ورک” کا حصہ دکھایا،کیس میں ایک ہندو خاتون سمیت 8 ملزم گرفتار ہوئیں،بھارتی میڈیا نے اشوینی کے بجائے صرف مسلمانوں کی کردار کشی کی، ندا خان کو کارپوریٹ جہاد اور "لوو جہاد” کے ہندتوا بیانیے کا حصہ بنایا گیا۔












