واشنگٹن ( پاک ترک نیوز )عالمی سیاست کے افق پر ایک نئی ہلچل،،دنیا پیچھے ہٹ گئی ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تنہا رہ گئے، امریکی صدر کی پالیسیوں سے دنیا دو حصوں میں بٹ گئی ،قریبی اتحادیوں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے منہ موڑ لیا ، صدر ٹرمپ 7بڑے ممالک کو ایران کے خلاف قائل کرنے میں ناکام ہو گئے ،، اتحادیوں سے رابطے بھی بے سود،، ہر ایک نے تجاویز رد کر دیں، کوئی بھی ملک بحری جہاز بھیجنے پر آمادہ نہ ہوا۔
امریکی صدر کو ایک بار پھر سفارتی سطح پر سخت چیلنجز کا سامنا ہے،، برطانیہ نے ایران کے خلاف جنگ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ، چین، فرانس، جاپان، آسٹریلیا، جنوبی کوریا نے صدر ٹرمپ کو صاف جواب دے دیا،، آبنائے ہرمز کھلوانے کے لئے مدد کی اپیلیں مسترد کر دیں،، جرمن وزیر دفاع نے بھی ٹرمپ کو ناں کر دی ۔
آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ ملنے پر امریکی صدر دنیا سے ناراض ہوگئے، کسی کو طعنہ دیا تو کسی کو دھمکی دی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے ہم نیٹوکےلیےموجود رہے، جب ہمیں ضرورت پڑی تو وہ موجود نہیں تھا، ہم نےنیٹوکےدفاع پر اربوں ڈالرخرچ کیے لیکن ہمارے دفاع کےلیے وہ موجود نہیں۔ برطانوی وزیراعظم نے بھی بہت مایوس کیا ۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کی سخت خارجہ پالیسی، یکطرفہ فیصلے اور عالمی معاہدوں سے علیحدگی جیسے اقدامات نے روایتی اتحادیوں کو بھی محتاط کر دیا ہے۔کچھ یورپی اور دیگر اتحادی ممالک نے کھل کر حمایت کرنے سے گریز کیا، جس سے سفارتی تنہائی کا تاثر مضبوط ہو رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سیاست میں کسی بھی بڑے ملک کے لیے اتحادیوں کی حمایت انتہائی اہم ہوتی ہے، اور جب یہ حمایت کمزور پڑ جائے تو پالیسیوں پر اثر پڑتا ہے۔ اگر امریکا کے اتحادی ممالک مکمل حمایت نہ کریں تو اس کے عالمی اثر و رسوخ پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، اور یہی صورتحال اس وقت نظر آ رہی ہے۔
عالمی سیاست میں تنہائی کسی بھی بڑی طاقت کے لیے خطرے کی علامت ہو سکتی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا امریکا اپنے اتحادیوں کو دوبارہ ساتھ ملا پاتا ہے یا عالمی سیاست میں نئی صف بندیاں سامنے آتی ہیں۔












