لاہور( پاک ترک نیوز) فٹبال شائقین کے درمیان ایک مبینہ بیان نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ آسٹریا اور الجزائر کے درمیان کھیلے گئے میچ کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف دعوے اور قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں، جبکہ بعض صارفین میچ کے نتیجے پر بھی سوالات اٹھا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ مقابلہ 3-3 سے برابر رہا، جس کے نتیجے میں دونوں ٹیموں نے اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کر لیا، جبکہ ایران ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔ اس نتیجے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف تبصرے اور تجزیے سامنے آنے لگے۔
اطلاعات کے مطابق ایران کو اگلے مرحلے میں رسائی کے لیے آسٹریا کی کامیابی درکار تھی، تاہم میچ برابر ہونے سے ایرانی ٹیم مطلوبہ پوزیشن حاصل نہ کر سکی۔
یہ بھی پڑھیں: کینیڈا ورلڈ فٹبال کے راؤنڈ آف 16 میں پہنچنے والی پہلی ٹیم
دوسری جانب الجزائر کے کپتان ریاض محرز کے مبینہ پوسٹ میچ ریمارکس بھی توجہ کا مرکز بن گئے۔ ان سے منسوب بیان میں کہا گیا کہ میچ کے دوران دونوں ٹیموں کی حکمت عملی مختلف رہی۔ ان کے بقول آخری لمحات میں گیند ان کے پاس آئی تو انہوں نے کھیل کے تقاضوں کے مطابق گول کرنے کی کوشش کی۔
مبینہ بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں ٹیموں کا اگلے مرحلے میں پہنچ جانا ان کے لیے اہم تھا، جبکہ انجری ٹائم میں کیے گئے گول کے حوالے سے بھی انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے صرف کھیل کے اصولوں کے مطابق اپنا کردار ادا کیا۔
ان بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں، جن میں میچ فکسنگ سے متعلق دعوے بھی شامل ہیں، زیرِ بحث آ گئے ہیں۔ تاہم اب تک فیفا یا کسی متعلقہ ادارے کی جانب سے ان دعوؤں کی تصدیق، تردید یا کسی باضابطہ تحقیقات کے آغاز کا اعلان سامنے نہیں آیا، اس لیے ان قیاس آرائیوں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔












