نیوی ارک ( پاک ترک نیوز) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خطاب کے دوران غیر معمولی احتجاج دیکھنے میں آیا، درجنوں ممالک کے مندوبین نے احتجاجاً اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور ہال سے باہر چلے گئے۔نیتن یاہو کے خطاب کے آغاز پر بڑی تعداد میں نشستیں خالی ہوگئیں، جبکہ ایرانی وفد نے بھی اپنا احتجاج منفرد انداز میں ریکارڈ کرایا اور اپنے ڈیسک پر شہید ایرانی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل قاسم سلیمانی کی تصویر رکھ کر ہال سے روانہ ہوگیا۔خطاب میں نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ وہ وقت دور نہیں جب ایرانی عوام اپنی حکومت کا تختہ الٹ دیں گے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے ایران میں انٹرنیٹ کی فراہمی کے حوالے سے اسٹار لنک کی ایک ڈیوائس بھی دکھائی۔نیتن یاہو نے لبنان میں حزب اللہ کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہونے والے پیجرز بھی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیے۔
یہ بھی پڑھیں: لانگ مارچ پر پی ٹی آئی قیادت میں اختلافات، حکمت عملی بدلنے اور مارچ ملتوی کرنے پر غور
اسرائیلی وزیراعظم نے حماس کی حمایت پر ترک صدر رجب طیب اردوان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ قطر پر طنز کیا اور نیویارک کے میئر کے امیدوار ظہران ممدانی کے بارے میں بھی سخت الفاظ استعمال کیے۔ادھر اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران اسرائیلی مندوب کی جانب سے ایرانی مندوب کے پاس جاکر اسٹار لنک ڈیوائس دکھانے اور طنزیہ جملے کسنے کی کوشش بھی سامنے آئی، تاہم ایرانی اہلکار نے اسرائیلی مندوب کو نظر انداز کردیا۔یوں نیتن یاہو کی تقریر سے پہلے ہی احتجاج، خالی نشستوں اور ایرانی وفد کے علامتی اقدام نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ماحول کو غیر معمولی بنا دیا۔












