کراچی ( پاک ترک نیوز) نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن میں کارروائی شروع ہوگئی، کمیشن کے طلب کرنے پر وزیر داخلہ سندھ ضیاءالحسن لنجار بھی پیش ہوئے، جبکہ مقتول کے اہلخانہ نے بھی کارروائی میں شرکت کی۔کارروائی کے دوران وزیر داخلہ سندھ ضیاءالحسن لنجار نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے گزشتہ رویے پر معذرت کرلی۔
ضیاءالحسن لنجار نے کہا کہ سندھ حکومت کا مقصد میر رضا قتل کیس کو حل کرنا اور پولیس کا مقصد ملزمان کو گرفتار کرنا ہے، انہیں ذاتی طور پر نوجوان کے قتل کا افسوس ہے۔وزیر داخلہ سندھ نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت مقتول کے اہلخانہ اور جوڈیشل کمیشن کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی اور کسی قسم کی مداخلت یا رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ کمیشن جس نوعیت کا تعاون چاہے گا، سندھ حکومت شواہد فراہم کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت، سعودی قیادت اور عوام سے اظہارِ یکجہتی
ضیاءالحسن لنجار کا کہنا تھا کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ قابل ہیں، تاہم بعض اوقات معاملات کو بہتر انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔دوسری جانب کمیشن کے رکن جسٹس عمر سیال نے کہا کہ سب سے اہم مقصد مقتول کے اہلخانہ کا اعتماد بحال کرنا ہے، متاثرہ خاندان کو سوال پوچھنے کا مکمل حق حاصل ہے۔جسٹس عمر سیال نے سوال اٹھایا کہ کیا سندھ حکومت کا اب بھی وہی مقصد ہے جو پہلے تھا؟
ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام کا پولیس پر اعتماد نہیں ہوگا تو پھر عدلیہ ہی رہ جاتی ہے، اس لیے معاملے میں شفافیت اور متاثرہ خاندان کا اعتماد بحال کرنا ضروری ہے۔









