لاہور( پاک ترک نیوز) کفایت شعاری کے نام پر کاروباری مراکز کے اوقات کار محدود کر دیے گئے۔ بازار، مارکیٹیں اور خریداری مراکز رات نو بجے بند ہوں گے، شادی ہالز رات دس بجے جبکہ کھانے پینے کے مراکز رات گیارہ بجے بند کرنا ہوں گے۔حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے توانائی کی بچت اور اخراجات میں کمی آئے گی، لیکن تاجر کہتے ہیں کاروبار پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے، اوقات کار کم ہونے سے مشکلات مزید بڑھیں گی۔ دوسری جانب عوام بھی کہتے ہیں کہ دن بھر مصروف رہنے والوں کے لیے خریداری کا وقت محدود ہو جائے گا۔کفایت شعاری کے لیے بازاروں کے اوقات تو کم کر دیے گئے، لیکن سوال یہ ہے کہ بجلی کی بچت کے ساتھ کاروباری سرگرمی اور عوامی سہولت کا کیا ہوگا؟
نئے فیصلے کے مطابق بازار، مارکیٹیں اور خریداری مراکز رات نو بجے بند ہوں گے۔شادی ہالز کے لیے رات دس بجے تک کا وقت مقرر کیا گیا ہے، جبکہ کھانے پینے کے مراکز رات گیارہ بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔ادویات کی دکانیں، اسپتال، پیٹرول پمپس اور دودھ کی دکانیں پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔حکومت کا کہنا ہے کہ توانائی کے غیر ضروری استعمال میں کمی اور قومی وسائل کی بچت کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات ضروری ہیں۔لیکن تاجر برادری اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عوام نے تحریک انصاف کی انتشاری سیاست مسترد کر دی ،امیر مقام
تاجروں کا مؤقف ہے کہ زیادہ تر خریدار شام اور رات کے اوقات میں بازاروں کا رخ کرتے ہیں۔ ملازمت پیشہ افراد دن بھر کام کے بعد خریداری کے لیے نکلتے ہیں، ایسے میں رات نو بجے دکانیں بند ہونے سے کاروبار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب شہریوں کو بھی مشکلات کا خدشہ ہے۔دفاتر سے دیر سے واپس آنے والے افراد کے لیے خریداری کرنا مشکل ہوگا۔ خصوصاً بڑے شہروں میں جہاں لوگ اپنی روزمرہ خریداری اکثر رات کے اوقات میں کرتے ہیں، وہاں نئے اوقات کار معمولات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ توانائی کی بچت ضروری ہے، لیکن ایسے فیصلوں میں عوام اور کاروباری طبقے کی سہولت کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔حکومت کے لیے توانائی کی بچت ایک اہم ضرورت ہے، مگر تاجروں اور عوام کے لیے روزگار اور سہولت بھی اتنی ہی اہم ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کفایت شعاری کے اس فیصلے سے قومی خزانے کو کتنا فائدہ پہنچتا ہے اور کاروباری طبقے کو اس کی کیا قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔












