واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) انسان ایک بار پھر چاند پر قدم رکھنے کی تیاری کررہا ہے، لیکن اس بار مقصد صرف چاند پر پہنچنا نہیں بلکہ وہاں مستقل انسانی موجودگی کی بنیاد رکھنا ہے! امریکی خلائی ادارے ناسا نے 2028 میں خلابازوں کو چاند کی سطح پر اتارنے کے منصوبے کو تیز کردیا ہے۔ اسپیس ایکس اور بلیو اوریجن بھی اس تاریخی مشن کا حصہ ہوں گے۔ اس سے پہلے 2027 میں ایک اہم آزمائشی مشن ہوگا، جس میں خلائی جہازوں کی ڈاکنگ اور جدید لینڈرز کی صلاحیتیں جانچی جائیں گی۔ آخر ناسا کا نیا منصوبہ کیا ہے؟ دیکھیے یہ رپورٹ!
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ انڈر19،بھارت کی پاکستان کیخلاف بیٹنگ جاری
چاند۔۔۔ جسے انسان صدیوں سے دیکھتا آیا، جس پر پہلی بار 1969 میں انسانی قدم پڑا، اب ایک بار پھر انسان وہاں واپسی کی تیاری کررہا ہے۔امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنے آرٹیمس پروگرام کو تیز کرتے ہوئے 2028 میں چاند پر انسانی لینڈنگ کا ہدف مقرر کیا ہے۔اس تاریخی سفر سے پہلے 2027 میں آرٹیمس تھری مشن روانہ کیا جائے گا۔ اس مشن میں چار خلاباز ناسا کے طاقتور ایس ایل ایس راکٹ کے ذریعے اورین خلائی جہاز میں زمین کے مدار میں جائیں گے۔ تقریباً 14 روزہ اس مشن کا مقصد چاند پر اترنے والے جدید خلائی جہازوں کی آزمائش کرنا ہوگا۔اس تجربے میں دو بڑی نجی خلائی کمپنیاں بھی شامل ہوں گی۔ بلیو اوریجن اپنا بلیو مون لینڈر ٹیسٹ کرے گی، جبکہ اسپیس ایکس اپنا جدید اسٹارشپ لینڈر مدار میں پہنچائے گی۔ اورین خلائی جہاز دونوں لینڈرز کے ساتھ ڈاکنگ کے تجربات کرے گا۔
آرٹیمس فور مشن کے تحت خلابازوں کو چاند کی سطح پر اتارنے کا منصوبہ ہے۔ اسپیس ایکس اور بلیو اوریجن دونوں اپنے قمری لینڈرز تیار کررہی ہیں، تاکہ ناسا کے خلاباز چاند تک پہنچ سکیں۔ناسا نے خلابازوں کے لیے ایک نیا اور ہلکا خلائی لباس تیار کرنے کا منصوبہ بھی بنایا ہے، جسے ’’سورٹی سوٹ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ موجودہ بڑے لباس کے مقابلے میں تقریباً نصف وزن کا ہوگا، جس سے چاند کی سطح پر چلنا اور کام کرنا نسبتاً آسان ہوگا۔ناسا کی نظریں صرف چاند پر قدم رکھنے تک محدود نہیں۔ ادارہ چاند کے جنوبی قطب پر تحقیق، وسائل کی تلاش اور مستقبل میں مستقل انسانی موجودگی قائم کرنا چاہتا ہے۔اس منصوبے کو مریخ پر انسانوں کو بھیجنے کی تیاری کی جانب بھی ایک اہم قدم قرار دیا جارہا ہے۔












