بیجنگ (پاک ترک نیوز)چین نے پہلی مرتبہ اپنی تیسری نسل کی جوہری آبدوز سے آبدوز پر نصب تزویراتی میزائل کا کامیاب تجربہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس پیش رفت کو چین کی زیرِ آب جوہری صلاحیتوں میں اضافے کی اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا گیا کہ ’’چانگ ژینگ‘‘ سلسلے کی جوہری آبدوزیں اب تیسری نسل تک پہنچ چکی ہیں اور ان سے آبدوز سے داغے جانے والے تزویراتی میزائل کا تجربہ کامیابی سے کیا گیا ہے۔
اس اعلان کے ساتھ چین نے اپنی بحری دفاعی صلاحیتوں میں پیش رفت کو اجاگر کیا ہے۔ تاہم چینی حکام نے آبدوز کی مخصوص قسم اور تجربے میں استعمال ہونے والے میزائل کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں۔
چین نے اس سے قبل رواں سال جولائی میں بھی سمندر سے جوہری میزائل داغنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس تجربے پر جاپان اور آسٹریلیا سمیت خطے کے بعض ممالک نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔
چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق جولائی میں کیا گیا میزائل تجربہ معمول کی فوجی مشقوں کے دوران ہوا تھا۔ اس وقت بتایا گیا تھا کہ میزائل مقامی وقت کے مطابق دوپہر بارہ بج کر ایک منٹ پر داغا گیا اور اس کا مقصد کسی مخصوص ملک یا ہدف کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔ متعلقہ حکومتوں کو بھی تجربے سے پہلے مطلع کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جولائی کے تجربے میں چین کی ٹائپ 094 جوہری میزائل بردار آبدوز استعمال ہوئی ہو سکتی ہے، تاہم اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
چین کے پاس کم از کم چھ ٹائپ 094 آبدوزیں ہونے کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ یہ آبدوزیں جے ایل 2 اور ممکنہ طور پر زیادہ جدید جے ایل 3 میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ جے ایل 3 کی ممکنہ مار کی حد ایسی بتائی جاتی ہے کہ وہ چین کے قریب سمندری علاقوں سے امریکا کے بعض حصوں تک پہنچ سکتا ہے۔
چین اس کے ساتھ ٹائپ 095 کی جدید آبدوزیں متعارف کرانے اور اگلی نسل کی ٹائپ 096 آبدوز تیار کرنے پر بھی کام کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کرسٹیانورونالڈو پر تربیتی کیمپ چھوڑنے پر 30 روزہ پابندی
چین نے بغیر عملے کے زیرِ آب گاڑیوں کو سنبھالنے اور ان کے آپریشن میں معاونت کے لیے دوسرا بحری جہاز بھی تیار کیا ہے۔ اس نوعیت کی گاڑیاں سمندر کی تہہ کا نقشہ بنانے، بارودی سرنگوں کا پتا لگانے اور نگرانی جیسے کام انجام دے سکتی ہیں۔












