
از:سہیل شہریار
بنگلہ دیش نے اپنی فضائیہ کو نیٹ ورک سے بندھی، میزائلز پر مبنی اور ڈیجیٹل طور پر فعال ایئر پاور کی طرف منتقل کر نےکے لئے پاکستان سے سارے ساز وسامان، تربیت اور ہتھیاروں سمیت 4.5 جنریشن کے 48 جدید جے ایف۔ 17 تھنڈربلاک تھری فائٹرز حاصل کرنےکے معاہدے پر حتمی بات چیت شروع کر دی ہے۔
ملکی و غیرملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیشی حکومت نے اپنی مسلح افواج کو ملکی دفاع کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے جامع قومی پروگرام 2030کا آغاز کر رکھا ہے۔جس کے تحت بی اے ایف کی فضائی جنگی صلاحیت کو عصری جنگی معیارات کے مطابق بڑھا کر اسے علاقائی ڈیٹرنس فورس میں تبدیل کرنے کی غرض سے 4.5 جنریشن کی فضائی طاقت میں منتقلی کے لئےپاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کے ساتھ 48 جدید جے ایف۔ 17 بلاک تھری فائٹرزکے حصول کے مزاکرات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق معاہدے کی بات چیت نے بنگلہ دیشی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل حسن محمود خان کے حالیہ دورہ اسلام آباد کے دوران فیصلہ کن رفتار حاصل کر لی ہے۔ اس ضمن میں پاکستان ایئر فورس کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نےیہ اعلان کر چکے ہیں کہ پاکستان ایک جامع تربیتی فریم ورک کے ذریعے بنگلہ دیشی فضائیہ کی مدد کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اور فوری طور پرسپر مشاق ٹرینر ہوائی جہاز کی تیز رفتار ترسیل کے ساتھ ساتھ مکمل تربیت اور طویل المدتی امدادی ماحولیاتی نظام کی تیاری کو یقینی بنایا جا رہا ہے ۔ جبکہ بی اے ایف کے سربراہ ائر چیف مارشل حسن محمود خان کا یہ دعویٰ کہ یہ دورہ دفاعی تعاون کو گہرا کرنے اور طویل المدتی تزویراتی شراکت داری کی تعمیر کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ درحقیقت، علاقائی مسابقت کو تیز کرنے، فضائی سلامتی کی ذمہ داریوں کو وسعت دینے، اور عصری فضائی طاقت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ڈھاکہ کی تیاری کا اشارہ دیتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی اے ایف کے سربراہ کا حالیہ دورہ 2025 کے اوائل میں شروع کی گئی فزیبلٹی اسٹڈیز اور تکنیکی تشخیص کے ایک سال طویل سلسلے کے بعد ہوا ہے۔ جس کے دوران بنگلہ دیش نے خاموشی سے جے ایف۔ 17 بلاک تھری کا اپنی ابھرتی ہوئی آپریشنل ضروریات، بشمول فضائی خودمختاری کا نفاذ، توسیعی خصوصی اقتصادی زون (ای ای زیڈ) کے دفاع، اور متعدد قابل اعتماد تحفظات کا جائزہ لیا ہے۔
پاک بنگلہ دیش دفاعی خریداری معاہدے کی ذرائع سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں فاسٹ ٹریک پر بی اے ایف کو 16 تھنڈر طیاروں کا اسکواڈرن فراہم کیا جائے گا۔ جس کی مالیت70کروڑ 20لاکھ ڈالر ہے۔جہازوں کی تعداد سے ہٹ کر اس پروگرام کا جامع دائرہ میں تربیت، آپریشنل اور ایم آر اوانفراسٹرکچر، پرزہ جات، اور ایک مکمل ہتھیاروں کا سوٹ شامل ہے۔ چنانچہ بنگلہ دیش ائر فورس کی جانب سے جے ایف۔ 17 بلاک تھری کے حصول کوفضائی بیڑے کی تبدیلی کی بجائے ایک نظامی قوت کی تخلیق نو کے اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔












