تہران: (پاک ترک نیوز)ایران میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں نے تشویشناک صورت اختیار کر لی ہے۔ انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ملک بھر میں جاری پرتشدد مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی ہے۔
امریکا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی (HRANA) کا دعویٰ ہے کہ اب تک کم از کم 490 مظاہرین اور 48 سیکیورٹی اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ 10 ہزار 600 سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ احتجاجی لہر 2022 کے بعد ایران میں سامنے آنے والے سب سے بڑے اور شدید مظاہرے تصور کیے جا رہے ہیں، جس نے عالمی برادری میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
تاہم ایرانی حکومت نے تاحال ہلاکتوں کے سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے، جبکہ غیر ملکی میڈیا کو آزادانہ تصدیق میں مشکلات کا سامنا ہے۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہرین کے حق میں سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ اگر ایرانی سیکیورٹی فورسز نے طاقت کا استعمال بند نہ کیا تو امریکا خاموش تماشائی نہیں بنے گا۔
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف ممکنہ اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی جا چکی ہے، جن میں محدود فوجی کارروائی، خفیہ سائبر آپریشنز، مزید اقتصادی پابندیاں اور حکومت مخالف عناصر کو آن لائن معاونت فراہم کرنے جیسے آپشنز شامل ہیں۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ہمارے پاس انتہائی سخت فیصلے لینے کی صلاحیت موجود ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ ایرانی اپوزیشن رہنماؤں سے رابطے میں ہیں، جبکہ ان کے بقول ایران کی قیادت نے ہفتے کے روز مذاکرات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے ان سے رابطہ کیا، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔دوسری جانب ایران کا ردعمل نہایت جارحانہ رہا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی غلط قدم کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔قالیباف کا کہنا تھا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو اسرائیل کے ساتھ ساتھ خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈے اور بحری اثاثے ایران کے جائز اہداف ہوں گے۔












