لاہور( پاک ترک نیوز) ایران، امریکا جنگ نے تیل کی منڈی میں مچا دی ہلچل۔۔۔ خام تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپرہونے لگیں ۔ کیا 100 ڈالر فی بیرل کا ہندسہ دوبارہ عبور ہونے والا ہے؟۔۔کیا پاکستان میں پٹرولا ور ڈیزل کی قیمت پھر بڑھ جائے گی ،اس حوالے سے دیکھتے ہیں یہ رپورٹ۔
جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی۔۔۔ اب اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔۔۔ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی کشیدگی نے عالمی تیل منڈی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔۔۔ خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر تیزی سے بڑھ رہی ہیں، شپنگ کمپنیاں خطرات کا سامنا کر رہی ہیں اور سرمایہ کاروں میں بے چینی پھیل رہی ہے۔۔۔ سوال یہ ہے کہ تیل کہاں تک جا سکتا ہے، اور اس کا پاکستان پر کیا اثر پڑے گا؟
امریکی فضائی حملوں اور ایرانی جوابی کارروائی کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل تقریباً 79 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 74 ڈالر فی بیرل سے اوپر ٹریڈ کر رہا ہے۔ مارکیٹ میں اضافے کی بنیادی وجہ صرف موجودہ حملے نہیں بلکہ مستقبل میں سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کے مطابق اصل تشویش آبنائے ہرمز ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے۔ اگر اس اہم بحری راستے میں مزید رکاوٹ آئی یا بحری جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی تو تیل کی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ محدود رہی تو برینٹ خام تیل 80 سے 85 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہ سکتا ہے،
لیکن اگر حملے مزید بڑھے، آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا ہوئی یا خلیجی تیل کی برآمدات متاثر ہوئیں تو قیمت 90 سے 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا امکان موجود ہے۔ بعض طویل مدتی تجزیے شدید سپلائی بحران کی صورت میں اس سے بھی زیادہ قیمتوں کا امکان ظاہر کرتے ہیں۔
تیل مہنگا ہونے کا مطلب صرف پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونا نہیں۔۔۔ اس کے ساتھ ہی شپنگ اخراجات، فضائی سفر، بجلی کی پیداواری لاگت، صنعتوں کے اخراجات اور خوراک کی قیمتیں بھی بڑھنے لگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مالیاتی منڈیاں بھی اس تنازع پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایک لٹر پٹرول پر عوام کتنا ٹیکس دیتے ہیں؟
پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے یہ صورتحال زیادہ تشویشناک ہو سکتی ہے۔ اگر عالمی قیمتوں میں مسلسل اضافہ برقرار رہا تو درآمدی بل بڑھ سکتا ہے، روپے پر دباؤ آ سکتا ہے اور پٹرولیم مصنوعات کی مقامی قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ مہنگائی اور تجارتی خسارہ بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں گرتے بم صرف عمارتیں ہی نہیں گرا رہے بلکہ عالمی معیشت کی بنیادوں کو بھی ہلا رہے ہیں۔۔۔ فی الحال تیل کی منڈی ہر نئی خبر پر ردعمل دے رہی ہے۔۔۔ اگر کشیدگی کم ہوئی تو قیمتیں بھی نیچے آسکتی ہیں، لیکن اگر جنگ نے مزید شدت اختیار کی تو صرف تیل ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں مہنگائی کی ایک نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔












