تہران ( پاک ترک نیوز) دنیا بھر میں ایک اہم سوال زیرِ بحث ہے کہ کیا ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے قریب پہنچ چکا ہے؟ اور اس کے پاس موجود افزودہ یورینیم کی مقدار کتنی ہے؟ ماہرین اور عالمی ادارے اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایران کے پاس 420 کلو گرام کے قریب ساٹھ فیصد افزودہ یورینیم موجود ہے جبکہ یورینیم کو ویپن گریڈ تک پہنچنے کے لیے 90 فی صد تک افزودہ کرنا ہوتا ہے ، 60 فی صد افزودہ یورینیم کو 90 فی صد تک افزودہ کرنے میں صرف چند ہفتے یا نوے دن درکار ہوتے ہیں،قدرتی یورینم سے ویپن گریڈ افزودگی تک پہنچنے میں سب سے آسان مرحلہ یہی 60 سے نوے فی صد تک کا ہے جبکہ مشکل مرحلہ قدرتی یورینیم کو 3 فی صد تک افزودہ کرنا اور مشکل ترین مرحلہ 3 سے 20 فی صد تک کا ہوتا ھے.پھر 20 فی صد سے 60 فیصد کم مشکل اور 60 سے 90 فی صد سب سے آسان مرحلہ ہوتا ہےے……ایک ایٹم بم کے لیے 42 کلو گرام یورینیم درکار ہوتا ہے ایران کے پاس جتنا یورینیم ھے اس سے 10سے 11 ایٹم بم بنائے جا سکتے ہیں
عالمی ایٹمی نگران ادارہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے مطابق ایران نے یورینیم کو تقریباً 60 فیصد تک افزودہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔یہ سطح عام جوہری بجلی گھروں کے لیے درکار سطح سے کہیں زیادہ ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی برادری کو خدشہ ہے کہ اگر افزودگی مزید بڑھی تو ایران کے لیے ایٹمی ہتھیار بنانا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں خاص طور پر اسرائیل اور مغربی ممالک اس معاملے کو خطے کی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں۔۔دوسری طرف ایران بارہا یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، جیسے بجلی پیدا کرنا اور سائنسی تحقیق۔،
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کی رفتار اور افزودہ یورینیم کی مقدار مستقبل میں عالمی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔












