تہران( پاک ترک نیوز) ناطرین تصور کریں صبح اٹھیں اور پٹرول پمپس بند ہوں ،قیمتیں دوگنی نہیں بلکہ تین گنا بڑھ چکی ہوں ،یہ وہ منظر ہے جو ایران کے حالیہ فیصلے کے بعد حقیقت بن سکتا ہے ۔
ناظرین! اگر دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہ اچانک بند ہو جائے تو کیا ہوگا؟ کیا تیل ختم ہو جائے گا؟ کیا عالمی معیشت بیٹھ جائے گی؟ اور کیا یہ تیسری عالمی جنگ کا آغاز ہو سکتا ہے؟
آبنائے ہرمز دنیا کی وہ شہ رگ ہے جہاں سے روزانہ کروڑوں بیرل تیل گزرتا ہے ، ، ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد دنیا کےلیے خطرے کی گھنٹی بج گئی ، ، پاسدارن انقلاب نے دھکیمی دی جو آبنائے ہرمز کو پار کرنے کی کوشش کرے گا اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
آبنائے ہرمز کی بندش ایک علاقائی مسئلہ نہیں، بلکہ عالمی معیشت کے دل پر حملہ ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو مشرقِ وسطیٰ کے تیل کو ایشیا، یورپ اور امریکہ تک پہنچاتا ہے ،اگر یہ بند ہو جائے تو صرف تیل ہی نہیں رکتا بلکہ پوری دنیا کی معیشت کی رفتار رک جاتی ہے۔
خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب، یو اے ای اور کویت کا تیل اسی راستے سے دنیا تک پہنچتا ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہو جائے تو تیل کی قیمتیں 150 سے 200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں، پیٹرول پمپ خالی ہو سکتے ہیں، اور عالمی اسٹاک مارکیٹس کریش کر سکتی ہیں۔مہنگائی ایک نئی تاریخ لکھ سکتی ہے۔ ۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ بندش لمبے عرصے تک جاری رہی تو دنیا کو شدید معاشی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ خاموش بیٹھے گا؟کیا خلیجی ممالک براہِ راست جنگ میں کود جائیں گے؟اور کیا دنیا ایک ایسے تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے جس کا انجام کوئی نہیں جانتا؟












