تہران ( پاک ترک نیوز) واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری کشیدگی کے بیچ ایک بار پھر سفارتکاری کی امید جاگ اٹھی ۔ دورۂ بھارت کے بعد روانگی سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نے عندیہ دیا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے آج بھی کسی معاہدے کا امکان موجود ہے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ رات ہی معاہدے سے متعلق کوئی بڑی پیش رفت سامنے آجائے گی، تاہم ممکن ہے آج کوئی اہم اعلان ہو جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران سے مذاکرات کے حوالے سے زیادہ قیاس آرائیاں نہیں کرنی چاہئیں، یا تو ایک اچھا معاہدہ ہوگا یا پھر امریکا کو اس مسئلے سے کسی اور انداز میں نمٹنا پڑے گا۔
امریکی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ واشنگٹن متبادل اقدامات پر غور سے پہلے سفارتکاری کو کامیاب بنانے کا ہر ممکن موقع دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے ایک مضبوط تجویز زیر غور ہے جبکہ ایران کے جوہری پروگرام پر محدود مدت کے مذاکرات کی ٹھوس پیشکش بھی موجود ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی یا جامع معاہدہ فوری طور پر طے پانے کا امکان نہیں، کیونکہ ایرانی قیادت کی جانب سے منظوری کے عمل میں کئی روز لگ سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے مذاکرات کار معاہدے کے وسیع اصولوں پر اتفاق کر چکے ہیں جبکہ امریکی حکام کا خیال ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای نے ابتدائی خدوخال کی منظوری دے دی ہے تاہم حتمی دستخط سے قبل کئی اہم نکات طے ہونا باقی ہیں۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ یہ کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ابھی مکمل طور پر طے نہیں ہوا، تاہم ان کے بقول یہ معاہدہ سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور کے جوہری معاہدے سے بالکل مختلف ہوگا۔
اب دنیا بھر کی نظریں واشنگٹن اور تہران پر جمی ہوئی ہیں کہ آیا سفارتکاری کامیاب ہوتی ہے یا خطے میں ایک نئی ہلچل جنم لینے والی ہے۔












