تہران: (پاک ترک نیوز)دنیا میں بہت کم ممالک ایسے ہیں جو جدید جنگی طیارے بناتے ہیں، جن میں امریکہ، روس اور چین شامل ہیں۔ کسی حد تک پاکستان اور فرانس کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ 4.5 یا ففتھ جنریشن طیارے بنا رہے ہیں۔
ترکی بھی کان (KAAN) کے نام سے ففتھ جنریشن طیارے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے، لیکن ایران نے سب کو حیران کر دیا ہے۔
لیکن ایران نے اپنا جدید ٹیکنالوجی کا حامل طیارہ قاہر 313 تیار کر لیا ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ یہ بغیر پائلٹ طیارہ ففتھ جنریشن ہے۔ لیکن کسی آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
کہا جارہا ہے امریکہ نے ایران پر حملہ اس لئے بھی نہیں کیا کیونکہ اس کی ایک بڑی وجہ قاہر 313 بھی ہے، یہ طیارہ بغیر پائلٹ کے بھی کام کر سکتا ہے، اور ایئر ٹو ایئر فائٹ کے لیے بھی تیار ہے۔
یہ منصوبہ ابتدا میں پائلٹ کے ساتھ طیارہ بنانے کے لیے شروع کیا گیا تھا، لیکن اب اسے ایک ایسے ڈرون میں تبدیل کیا جا رہا ہے جو اسرائیل تک یا اس سے بھی زیادہ فاصلے تک بغیر پائلٹ کے جا سکتا ہے اور حملہ بھی کر سکتا ہے۔ایران کا سب سے بڑا دعویٰ یہ ہے کہ اس طیارے کا ہر حصہ انہوں نے خود بنایا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس پر چھ ایئر ٹو ایئر میزائل لگائے جا سکتے ہیں، اور بم بھی نصب کیے جا سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس طیارے پر نصب ایئر ٹو ایئر میزائلوں کی رینج بہت زیادہ ہے۔
بتایا گیا ہے کہ پروٹوٹائپ مرحلے میں اسے 100 سے 150 کلومیٹر رینج والے میزائلوں کے ساتھ ٹیسٹ کیا گیا، جبکہ اصل رینج اس سے کہیں زیادہ ہے۔اس کا اپنا ایویانکس اور الیکٹرانک سسٹم ہے جو کسی دوسرے ملک کے ساتھ منسلک نہیں، اس لیے اسے ٹریس کرنا، ڈیٹیکٹ کرنا یا اس کے سسٹم کو جام کرنا انتہائی مشکل ہے۔












