ریاض ( پاک ترک نیوز) مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر خطرناک کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ۔ یمن میں سعودی فوجی اتحاد نے فضائی حملے کر دیئے ،رپورٹس کے مطابق سعودی فوجی اتحاد نے یمن میں حوثیوں کے خلاف فضائی کارروائیاں کیں۔ حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ کے مطابق الحدیدہ اور بحیرہ احمر میں واقع جزیرہ کمران کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ الحدیدہ میں ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کی تنصیبات بھی حملوں کی زد میں آئیں۔
دوسری جانب سعودی فوجی اتحاد نے الحدیدہ بندرگاہ پر حملے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی صرف حوثیوں کے فوجی ٹھکانوں کے خلاف کی گئی۔ اتحاد کے مطابق بندرگاہ کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور تمام بحری راستے جہاز رانی کے لیے کھلے ہیں۔ سعودی اتحاد کا کہنا ہے کہ تباہ کیے گئے اہداف کا تعلق بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات سے تھا، اور اگر حوثیوں کی جارحانہ کارروائیاں جاری رہیں تو مؤثر جواب دیا جائے گا۔
ادھر ایرانی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیجِ عمان میں ایک ایل پی جی ٹینکر پر امریکی حملے کے نتیجے میں جہاز کے انجن روم کو نقصان پہنچا، جس سے وہ ناکارہ ہو گیا، جبکہ حملے میں عملے کے دو افراد ہلاک ہوئے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا نے مبینہ طور پر اس جہاز کو ایرانی گیس لے جانے والا ٹینکر سمجھ کر نشانہ بنایا۔
بحرین میں امریکی میزائل دورانِ پرواز راستہ بدل کر اپنی ہی فوجی تنصیبات کے قریب جا گرا، جبکہ ایرانی میڈیا نے بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے اڈے پر ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کا بھی دعویٰ کیا۔ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان معتمرین کی تعداد میں پہلے نمبر پر ہے۔ سعودی وزارت حج و عمرہ
واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ایرانی قیادت میں تبدیلی آ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پر بڑے حملوں کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، اور ممکن ہے کہ ایسے حملوں کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کا اثر و رسوخ ختم ہو چکا ہے اور اب ایران خطے کے لیے مزید دردِ سر نہیں بنے گا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے چین اور روس کی قیادت مایوس نہیں کرے گی۔ انہوں نے سعودی عرب پر زور دیا کہ وہ معاہدۂ ابراہیمی میں شامل ہو، بصورتِ دیگر امریکا سعودی عرب کے ساتھ جوہری تعاون کے معاہدے پر آگے نہیں بڑھے گا۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران دھمکی، دباؤ اور طاقت کی زبان قبول نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران اپنے اصولی مؤقف سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گا اور آبنائے ہرمز میں اپنے حقوق کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔
یمن میں نئی فضائی کارروائیاں، خلیجِ عمان اور بحرین سے متعلق سامنے آنے والے دعوے، اور امریکا و ایران کے متضاد بیانات اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ اگرچہ سفارتی رابطوں کی بات بھی کی جا رہی ہے، تاہم میدانِ عمل میں جاری عسکری سرگرمیاں خطے کے امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں۔












