لاہور( پاک ترک نیوز) شدید گرمی، بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور جسم سے بہتا پسینہ۔۔۔ ایسے میں ہر شخص یہی سوچتا ہے کہ آخر دن میں کتنی بار نہانا صحت کے لیے درست ہے؟ کچھ لوگ گرمی سے بچنے کے لیے دن میں تین سے چار بار بھی غسل کر لیتے ہیں، لیکن طبی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ضرورت سے زیادہ نہانا جلد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرینِ جلد کے مطابق انسانی جلد ایک حساس حفاظتی تہہ کی طرح کام کرتی ہے، جس پر موجود قدرتی تیل جسم کی نمی برقرار رکھنے اور جلد کو جراثیم سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بار بار نہانے سے یہی قدرتی تیل ختم ہونے لگتا ہے، جس کے نتیجے میں جلد خشک، بے جان اور حساس ہو جاتی ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق گرمیوں میں زیادہ غسل کرنے سے اسکن بیریئر متاثر ہوتا ہے، جس سے خارش، الرجی، ریشز اور جلدی انفیکشنز کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ خاص طور پر گرم پانی یا سخت صابن کا استعمال اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔
دوسری جانب گرمی کے موسم میں پسینہ، گردوغبار اور جسمانی بو بھی ایک بڑا مسئلہ بن جاتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ پسینے کے باعث جلد کی تہوں میں جراثیم اور مٹی جمع ہو جاتی ہے، جو فنگس اور دیگر انفیکشنز کو جنم دے سکتی ہے۔ اسی لیے صفائی ضروری ہے، لیکن اعتدال اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ عام حالات میں دن میں ایک یا دو بار نہانا کافی ہوتا ہے۔ وہ افراد جو زیادہ تر گھروں یا دفاتر میں رہتے ہیں، ان کے لیے ایک بار غسل کافی سمجھا جاتا ہے۔ تاہم جو لوگ شدید دھوپ میں کام کرتے ہیں، سفر کرتے ہیں یا ورزش کرتے ہیں، انہیں دن میں دو بار نہانے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے تاکہ جسم صاف اور تروتازہ رہے۔
ڈاکٹرز یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ نہانے کے فوراً بعد موئسچرائزر کا استعمال کیا جائے تاکہ جلد کی نمی برقرار رہے۔ اس کے علاوہ ٹھنڈے یا نیم گرم پانی سے غسل کرنا جلد کے لیے زیادہ بہتر سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر جلد میں مسلسل خشکی، خارش یا سرخی محسوس ہو تو یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ آپ ضرورت سے زیادہ نہا رہے ہیں۔ ایسی صورت میں فوری طور پر نہانے کی تعداد کم کرنے اور جلد کے ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔












