لاہور: (پاک ترک نیوز)آج ہم بات کریں گے رمضان المبارک میں معدے کے مریضوں کے لیے اہم احتیاطی نکات کے بارے میں۔
رمضان کا مہینہ برکتوں والا ہے، لیکن معدے کی سوزش یا پیپٹک السر کے مریضوں کے لیے کچھ مخصوص تدابیر اختیار کرنا بہت ضروری ہے تاکہ روزہ آسانی سے رکھا جا سکے اور معدے کی تکالیف نہ بڑھیں۔
ماہرین کے مطابق معدے کی سوزش اور السر عام طور پر بیکٹیریا کے انفیکشن، زیادہ مصالحے دار اور چکنائی والی غذائیں، طویل مدت تک درد کش ادویات کا استعمال اور سگریٹ نوشی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔
اس کے عام علامات میں پیٹ درد، سینے کی جلن، ڈکار آنا، تیزابیت اور اوپری پیٹ میں جلن یا درد شامل ہیں۔ رمضان میں طویل وقت تک معدہ خالی رہنے سے یہ علامات بڑھ سکتی ہیں۔
سب سے اہم بات: روزہ رکھنے کا فیصلہ ہمیشہ مریض کی حالت کے مطابق ہونا چاہیے۔ سحری چھوڑنا معدے میں تیزابیت بڑھا سکتا ہے، اس لیے سحری ضرور کی جائے اور چائے یا کیفین والے مشروبات سے پرہیز کریں کیونکہ یہ پانی کی کمی اور معدے کی جلن کو بڑھا سکتے ہیں۔
روزہ افطار کرتے وقت آہستگی سے کھانا معدے کو اچانک تیزابیت سے بچاتا ہے۔ افطار میں سب سے پہلے کھجور اور پانی لینا بہتر ہے، اس کے بعد ہلکا سوپ یا پھلوں کے مشروبات معدے کے لیے مفید ہیں۔
افطار میں متوازن غذا جیسے کاربوہائیڈریٹس، پروٹین، سبزیاں اور پھل شامل کریں اور تلی ہوئی، مرچ مصالحے دار یا زیادہ نمکین اشیاء سے پرہیز کریں۔
چکنائی والی اور کھٹی اشیاء جیسے لیموں، مالٹا، گریپ فروٹ، پراسیسڈ اور زیادہ چینی والی چیزیں معدے کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔ رمضان میں سگریٹ چھوڑنا بھی ایک اچھا موقع ہے کیونکہ سگریٹ معدے کی سوزش اور السر کی بڑی وجہ ہے۔
آخر میں یاد رکھیں کہ افطار سے سونے تک مناسب پانی پینا، ہلکی اور متوازن غذا، اور ادویات ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق لینا رمضان میں معدے کے مریضوں کے لیے روزہ آسان بناتا ہے۔












