لاہور( پاک ترک نیوز) عید الاضحیٰ قریب آتے ہی ملک بھر میں قربانی کی تیاریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ گلیوں، محلوں اور مویشی منڈیوں میں رونقیں ہیں، لیکن اس بار شدید گرمی اور حبس نے ماہرینِ صحت کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عید کے پہلے اڑتالیس گھنٹے وہ خطرناک وقت ہوتے ہیں جب فوڈ پوائزننگ کے کیسز میں خوفناک حد تک اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ ہر سال سینکڑوں افراد، خصوصاً بچے اور بزرگ، خراب گوشت کھانے کے باعث ہسپتال پہنچ جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق قربانی کے بعد گوشت کو سنبھالنے میں معمولی سی غفلت بھی خطرناک بیماریوں کو دعوت دے سکتی ہے۔ شدید گرمی میں اگر کچا گوشت دو گھنٹے سے زیادہ فریج سے باہر رہے تو اس میں مہلک جراثیم تیزی سے بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں، جو معدے اور آنتوں کی سنگین بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ عید کے دنوں میں لوگ جلد بازی اور رش کے باعث گوشت کو کھلے آسمان تلے دھوپ میں کاٹتے ہیں، جہاں گرد، مکھیاں اور گرم موسم گوشت کو آلودہ کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عید کے فوراً بعد الٹی، دست، تیز بخار اور پیٹ میں شدید مروڑ کے مریضوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔
ماہرین نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ گوشت ہمیشہ سایہ دار جگہ پر کاٹا جائے اور مکھیوں سے بچانے کے لیے پنکھوں یا کور کا استعمال کیا جائے۔ کلیجی، گردے اور دل جیسے اعضاء کو عام گوشت سے الگ رکھا جائے کیونکہ یہ زیادہ جلد خراب ہوتے ہیں اور انہیں پہلے استعمال کرنا چاہیے۔
طبی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ پکا ہوا گوشت دو گھنٹے سے زیادہ باہر نہ رکھا جائے بلکہ فوری طور پر فریج یا فریزر میں منتقل کر دیا جائے۔ گوشت کو بڑے تھیلوں میں بھرنے کے بجائے چھوٹے چھوٹے پیکٹس میں تقسیم کیا جائے تاکہ وہ جلد ٹھنڈا اور محفوظ ہو سکے۔
ڈاکٹرز نے خبردار کیا ہے کہ ادھ پکا گوشت بھی بیماری کی بڑی وجہ بن سکتا ہے کیونکہ زیادہ درجہ حرارت کے بغیر خطرناک جراثیم مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے۔ اسی لیے باربی کیو، تکے یا دیگر پکوان بناتے وقت گوشت کو اچھی طرح پکانا بے حد ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق خراب گوشت کھانے کے صرف دو سے چھ گھنٹے بعد علامات ظاہر ہونا شروع ہو سکتی ہیں، جن میں قے، بخار، دست، پیٹ درد اور شدید کمزوری شامل ہیں۔ اگر کسی بچے یا بزرگ میں پانی کی کمی، منہ خشک ہونے یا پیشاب بند ہونے جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ شدید گرمی میں ڈی ہائیڈریشن جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
تو ناظرین! اس عید خوشیوں کے ساتھ احتیاط بھی ضروری ہے، کیونکہ معمولی لاپرواہی قربانی کی خوشیوں کو ہسپتال کے بستر تک پہنچا سکتی ہے۔










