لاہور( پاک ترک نیوز) کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جیسے ہی چینی کا ایک دانہ یا کوئی میٹھی چیز زمین پر گرتی ہے، چند منٹوں میں چیونٹیوں کی پوری فوج وہاں کیسے پہنچ جاتی ہے؟
آخر انہیں کس نے بتایا کہ خوراک یہاں موجود ہے؟ کیا چیونٹیوں کے پاس بھی کوئی خفیہ گوگل میپ ہوتا ہے؟
آج آپ اس حیران کن راز سے پردہ اٹھانے والے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ چیونٹیاں اتفاق سے خوراک تک نہیں پہنچتیں بلکہ ان کے پاس ایک انتہائی منظم اور حیرت انگیز نظام موجود ہوتا ہے۔
خوراک کی تلاش پر نکلنے والی مزدور چیونٹیاں اپنے اینٹینا کی مدد سے ایسے کیمیائی اشارے محسوس کرتی ہیں جو انسان محسوس بھی نہیں کر سکتے۔
جیسے ہی کوئی ایک چیونٹی خوراک دریافت کرتی ہے، وہ واپس جاتے ہوئے زمین پر فیرومونز نامی کیمیائی مادہ چھوڑتی جاتی ہے۔
یہی خوشبو دار راستہ دوسری چیونٹیوں کے لیے گویا ایک قدرتی گوگل میپس بن جاتا ہے۔ چند ہی منٹوں میں سینکڑوں چیونٹیاں اسی نشان زدہ راستے پر چلتے ہوئے خوراک تک پہنچ جاتی ہیں اور اجتماعی طور پر اسے اپنی کالونی تک منتقل کرنا شروع کر دیتی ہیں۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ چیونٹیوں کے اینٹینا صرف سونگھنے کے لیے نہیں بلکہ ذائقہ، سمت، خطرات اور ایک دوسرے سے رابطے کا بھی بنیادی ذریعہ ہیں۔ اگر اینٹینا متاثر ہو جائیں تو چیونٹیاں راستہ بھول جاتی ہیں اور اپنی کالونی سے رابطہ بھی کھو بیٹھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں کمی کا امکان
ماہرین کے مطابق چیونٹیوں کے چھوڑے گئے کیمیائی راستے تقریباً 47 منٹ تک مؤثر رہتے ہیں، جو ان کی پوری ٹیم کو خوراک تک پہنچانے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ فرش پر گرا ہوا ایک معمولی سا چینی کا دانہ بھی چند گھنٹوں میں چیونٹیوں کی بڑی قطار کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ واقعی، قدرت نے ان ننھی مخلوق کو ایسا حیران کن نظام عطا کیا ہے جو آج بھی سائنس دانوں کے لیے حیرت کا باعث ہے۔












