تہران ( پاک ترک نیوز) ایران جنگ میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی ہلاکت کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہے ۔۔۔۔ خبر سچ ہے یا صرف ایک افواہ؟،اس میں حقیقت کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر اچانک ایک خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔۔۔ دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ایرانی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس خبر نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، مگر سوال یہ ہے کہ اس خبر میں کتنی حقیقت ہے؟
گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسی پوسٹس تیزی سے وائرل ہوئیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیلی وزیراعظم حملے میں مارے گئے ہیں۔اسی نوعیت کی بعض سوشل میڈیا پوسٹس میں ان کے بھائی ایڈو نیتن یاہو اور اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر کے زخمی ہونے کے دعوے بھی کیے گئے۔
قیاس آرائیوں کو اس لیے بھی تقویت ملی کیونکہ نیتن یاہو کے ذاتی چینل پر آخری ویڈیو پوسٹ ہوئے تقریباً 3 دن گزر چکے تھے، جبکہ نئی تصاویر جاری ہوئے تقریباً 4 دن ہو گئے تھے، اس سے پہلے عموماً روزانہ کم از کم 1 اور بعض اوقات 3 تک ویڈیوز جاری کی جاتی تھیں۔
اسرائیلی حکام اور بین الاقوامی میڈیا نے اسرائیلی وزیراعظم کی ہلاکت کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو اپنے سرکاری فرائض انجام دے رہے ہیں، 10 مارچ کو انہوں نے اسرائیل کے نیشنل ہیلتھ کمانڈ سینٹر کا دورہ کیا، جبکہ 11 مارچ کو اشدود بندرگاہ کا معائنہ کیا جہاں انہوں نے آپریشن روئرنگ لائن کے دوران سمندری تجارتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور 12 مارچ کو پریس کانفرنس کی، ان دونوں دوروں کی ویڈیوز بھی عوامی طور پر جاری کی گئی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے ماحول میں اکثر فیک نیوز اور پروپیگنڈا بھی تیزی سے پھیل جاتا ہے جس سے عوام میں بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔ جنگ یا بحران کے وقت سوشل میڈیا پر آنے والی ہر خبر پر یقین کرنے کے بجائے مستند ذرائع سے تصدیق کرنا انتہائی ضروری ہے۔












