لاہور: (پاک ترک نیوز)پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) چھ ٹیموں سے آٹھ ٹیموں تک توسیع کی جانب بڑھ رہی ہے، اور اس مقصد کے لیے دو نئی فرنچائزز کی نیلامی میں شرکت کرنے والے چار بڑے بولی دہندگان کی تصدیق ہو چکی ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے دلچسپی رکھنے والے تمام گروپس کی تکنیکی جانچ مکمل کر لی ہے، جبکہ نئی ٹیموں کی نیلامی 8 جنوری 2026 کو جناح کنونشن سینٹر، اسلام آباد میں منعقد کی جائے گی۔
پی سی بی کے مطابق، دو نئی پی ایس ایل فرنچائزز کے لیے جن چار گروپس نے باضابطہ طور پر کوالیفائی کیا ہے، ان میں نمایاں کاروباری اور کارپوریٹ ادارے شامل ہیں۔
ترین گروپ، جس کی قیادت معروف کاروباری شخصیت علی خان ترین کر رہے ہیں، نیلامی میں شامل نمایاں امیدواروں میں شامل ہے۔ علی خان ترین اس سے قبل ملتان سلطانز کے مالک رہ چکے ہیں، جسے انہوں نے 2018 کے بعد ایک مضبوط اور مستقل کارکردگی دکھانے والی ٹیم میں تبدیل کیا۔
ان کی قیادت میں ملتان سلطانز نے 2021 میں پی ایس ایل کا ٹائٹل جیتا اور کئی بار فائنل تک رسائی حاصل کی۔تاہم گزشتہ برس کے دوران علی خان ترین اور پی سی بی کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے، جس کی وجہ فرنچائز معاہدے کی تجدید، رابطے کے فقدان اور لیگ کے انتظامی امور پر اختلافات بتائے جاتے ہیں۔
تعلی رین نے کھل کر پی سی بی پر شفافیت نہ ہونے کے الزامات لگائے اور وہ واحد مالک تھے جنہیں دیگر ٹیموں کی طرح 10 سالہ توسیعی معاہدہ پیش نہیں کیا گیا۔
بعد ازاں پی سی بی نے مبینہ معاہدے کی خلاف ورزی پر علی ترین کو قانونی نوٹس بھیجا، جسے انہوں نے مسترد کر دیا۔ 2025 کے آخر میں علی ترین نے اعلان کیا کہ وہ ملتان سلطانز کی ملکیت کی تجدید نہیں کریں گے، جس کے بعد پی سی بی نے 2026 سیزن کے لیے عارضی طور پر فرنچائز کا کنٹرول سنبھال لیا۔
اس صورتحال کے بعد علی خان ترین نئی پی ایس ایل ٹیم کے لیے بولی دینے کے اہل ہو گئے ہیں۔انویرکس گروپ، جو پاکستان کی معروف قابلِ تجدید توانائی کمپنی ہے، بھی نئی پی ایس ایل فرنچائز کے لیے باضابطہ طور پر میدان میں آ چکی ہے۔
چوتھا امیدوار او زیڈ گروپ ہے، جس کے چیئرمین حمزہ مجید ہیں۔ پی سی بی کے مطابق، کامیاب بولی دہندگان کو اپنی ٹیم کے لیے فیصل آباد، راولپنڈی، حیدرآباد، سیالکوٹ، مظفرآباد یا گلگت میں سے کسی ایک شہر کو بطور ہوم گراؤنڈ منتخب کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔یوں پی ایس ایل کی توسیع کا عمل ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں 8 جنوری کی نیلامی لیگ کے مستقبل کا رخ متعین کرے گی۔












