برلن ( پاک ترک نیوز) جرمنی کی یونیورسٹی آف مُنسٹر نے اسلامی تعلیمات کے شعبے میں ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے یورپ کی پہلی سرکاری جامعہ میں پہلی اسلامی خودمختار فیکلٹی قائم کر دی۔
2021 سے زیرِ تعمیر "کیمپس آف ریلیجنز” منصوبے کا افتتاح 2027 میں متوقع ہے، جہاں کیتھولک، پروٹسٹنٹ اور اسلامی الٰہیات کی فیکلٹیز کے ساتھ شعبۂ مذہبی مطالعات کو بھی ایک ہی مقام پر اکٹھا کیا جائے گا۔
نئی فیکلٹی کے پہلے ڈین مقرر ہونے والے معروف محقق موہند خورشید نے اس پیش رفت کو ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد اسلام کی ایسی تشریح کو فروغ دینا ہے جو کھلے ذہن، تحقیق، مکالمے اور عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ ان کے مطابق اس اقدام کے اثرات نہ صرف یورپ بلکہ پوری مسلم دنیا تک پہنچ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چینی کمپنی کی پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری میں دلچسپی
خودمختار فیکلٹی بننے کے بعد اسلامی الٰہیات کا شعبہ اب اپنے طور پر پی ایچ ڈی اور دیگر اعلیٰ تحقیقی ڈگریاں دینے کا مجاز ہوگا، جس سے نئے محققین کی تربیت، علمی تحقیق اور بین الاقوامی تحقیقی فنڈز کے حصول میں بھی آسانی ہوگی۔
2012 میں قائم ہونے والے اسلامی الٰہیات مرکز میں ابتدا میں صرف 15 طلبہ اور 3 عملہ موجود تھا، جبکہ اب یہاں 8 پروفیسرز اور 50 سے زائد عملہ خدمات انجام دے رہا ہے۔ توقع ہے کہ آئندہ چند برسوں میں طلبہ کی تعداد 500 سے تجاوز کر جائے گی۔









