
از: سہیل شہریار
یورپی یونین کے صدر ملک ڈنمارک کا دارالحکومت کوپن ہیگن آج بدھ، یکم اکتوبر کو 27رکنی یورپی یونین کے رہنماؤں کی میزبانی کرنے والا ہے۔ جس کے بعد جمعرات کو وسیع تر47 رکنی یورپی سیاسی برادری کا سربراہی اجلاس ہوگا۔
اس غیر معمولی سربراہی اجلاس کے ایجنڈے پر سرفہرست حالیہ دنوں اور ہفتوں کے دوران روس کی جانب سےیورپی ملکوں کی فضائی حدود کی مبینہ خلاف ورزیوں سے یورپ بھر میں پیدا ہونے والی سیکورٹی کی صورت حال ہے۔یہ خلاف ورزیاں روس کے ہمسایہ ملکوں پولینڈ، رومانیہ اور اسٹونیا کی جانب سے رپورٹ کی گئی ہیں۔ تازہ ترین واقعہ روسی میگ 31طیاروں کی اسٹونیا کی فضائی حدود میں داخل ہونے کاہےجو 19ستمبرکو پیش آیا تھا۔ادھر ڈنمارک کی وزیر اعظم فریڈرکسن نے بھی اشاروں میں اپنے ملک میں نامعلوم ڈرونز کی پروازوں کو روس سے ہی منسوب کیا ہے۔انہوں نے یورپی یونین کے اپنی باری کے مطابق صدر ملک کی وزیر اعظم کی حیثیت سے اعلان کیا ہے کہ وہ روسی صدر پوٹن کی جانب سے یورپی ملکوں کے اتحاد کو توڑنے اور انہیں تقسیم کرنے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گی۔تاہم روس کی جانب سے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔
https://www.youtube.com/watch?v=OymFq3Q6-qs
یورپی یونین کا سربراہی اجلاس نومبر میں منعقد ہونے والے کوپ۔ 30 موسمیاتی سربراہی اجلاس کے لیے 2035 اور 2040 کے لیے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے اہداف مقرر کرے گا۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسلہ وینڈر لین نے منگل کے روز کہا کہ بلاک کی جانب سے اس ماہ اہداف کی منظوری نہ دئیے جانے کی وجہ سے یورپی یونین پہلےہی ستمبر کے اختتام تک کی اقوام متحدہ کی ڈیڈ لائن پوری کرنے میں ناکام رہا ہے ۔ جبکہ چین سمیت دیگر بڑی معیشتوں نے اقوام متحدہ کی ڈیڈ لائن کو پورا کیا ہے۔اس کے علاوہ اجلاس میں باہمی تجارت ،غیر قانونی تارکین وطن کے امور سمیت دیگر امور بھی سربراہی اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ ہیں۔
اگلے دو روز میںپہلے یورپی یونین اور بعد میں پورے یورپ کی سطح پر ہونے والے ان سربراہی اجلاسوں کے انعقاد سے قبل نامعلوم ڈرونز کی کوپن ہیگن میں پروازوں نے نئے سیکورٹی خدشات کو جنم دے دیا ہے ۔اور ڈنمارک کی حکومت نے ڈرون دیکھنے کے واقعات کے بعد سربراہی اجلاسوں کے مقام انعقاد کے ارد گرد سیکورٹی بڑھا دی ہے۔جبکہ اس ضمن میں فرانس، جرمنی اور برطانیہ سمیت دیگر یورپی ملکوں نے اپنے ڈرونز سے نمٹنے کے لئے خصوصی فوجی دستے اور ہیلی کاپٹرز بھی پن ہیگن روانہ کر دئیے ہیں۔












